دہلی کی جامع مسجد کے امام اعلان کرچکے تھے کہ بھارت میں رئویت ہلال کی کہیں سے بھی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی اس لئے بھارت میں 25مئی سوموارکوعید الفطرہوگی۔مگر ملت اسلامیہ کشمیرکو دہلی کے شاہی امام کے اعلان سے کوئی غرض اور کوئی سروکارنہ تھا۔ کشمیری مسلمانوں کے بے اعتنائی کایہ طرزعمل بے چارے جامع مسجددہلی کے امام کے خلاف ہرگز نہ تھابلکہ ان کایہ وطیرہ ہندوستان کے خلاف تھاکیوں کہ وہ توہندوستانی نہیں ۔تاریخ اٹھاکردیکھ لیجئے کہ کشمیر سلطنت بھارت کا کبھی حصہ رہاہے اورنہ ہی کشمیری مسلمانوں نے اپنے آپ کوکبھی ہندوستانی مسلمان سمجھا۔اس لئے وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی گوش برآوازتھے کہ پاکستان کل روزہ رکھنے یاعیدمنانے کااعلان کرے تو ہم اس پرعمل پیراہونگے ۔عشاء کی نماز تک وہ بڑے تمکنت اوروقارکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ابھی پاکستان سے اعلان ہوجائے۔ لیکن پاکستان سے ہلال عید کی رئویت یاعدم رئویت کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں ہورہاتھا۔یہاں تک رات کے گیارہ بج رہے تھے متفکرہوکروہ ایک دوسرے کوفون پر پوچھنے لگے آخرماجراکیا ہے، لیٹ ہورہاہے، پاکستان اعلان کیوں نہیں کررہا۔ مقبوضہ کشمیرجوعملاََفوجی چھائونی ہے مغرب کے ساتھ ہی لوگ اپنے آشیانوں کی راہ لیتے ہیں۔ یہاں چھوٹی راتوں میں گیارہ بجے نصف شب ہوتی ہے۔ اتنی دیرہورہی ہے مگرپاکستان ہلال عید کے نظرآنے یانہ آنے کااعلان کیوں نہیں کررہا اسی انتظارکے دوران پاکستان رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمٰن نے یہ مژدہ سنایاکہ پاکستان میں ہلال عیدنمودارہونے کی درجنوں شرعی شہادتیں موصول ہوئیں ہیں اس لئے 24مئی اتوارکویکم شوال المکرم ہے اورپاکستان میںعیدالفطر منائی جائے گی۔ اس اعلان کے سنتے ہی کشمیرکے کوہ ودامن نعرہ تکبیرسے گونج اٹھے اوراسلامیان کشمیر موبائل فونوں پرایک دوسرے کورات بھرہلال عیدکی جلوہ نمائی پرمبارکبادیاں دیتے رہے۔ کشمیرسے متعلق زمانے کی مجرمانہ بے اعتنائی کے باوجودکشمیرکی عبقری (GENIUS)نوجوان نسل نے ’’چلوتم ادھرکوہواہوجدھر کی ہوا ہو ‘‘کے بت کوتوڑکرپاش پاش کردیااوریک رخ اوریکسوہوگئے ۔اسلامیان کشمیرکے پاکستان کے ساتھ نظریاتی تعلق سے بھارت کی چولیں ہل جاتی ہیں اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ پکارنے کی اس کی ساکھ و دھاک ہوامیں تحلیل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی رویت ہلال کے اعلان پر کشمیرکے نوجوانوں نے ٹویٹرپرلکھاکہ بھارت ہلال عیدکواگرہمارے ہاتھوں میں بھی تھمادے گاتب بھی ہماری عید پاکستان کے ساتھ ہو گی۔ انہوں نے لکھاکہ ہمیں عیدپراتنی خوشی نہیں ہوتی جتنی اس بات پرہوتی ہے کہ ہم بھارت کے بجائے مملکت خداداد پاکستان کے ساتھ روزے بھی رکھتے ہیں اورعیدبھی اسی کے ساتھ مناتے ہیں۔ٹویٹرپرمرقوم یہ رشحات صرف چندکشمیری نوجوانوں کے جذبات کااظہارنہیں بلکہ یہ اس پوری ملت اسلامیہ کشمیرکے جذبات اوراحساسات کی ترجمانی ہے کہ جوغلامی کی سلاسل توڑنے میں مصروف کارہے اور یہ دراصل اسلامیان کشمیرکی طرف سے کشمیر میں جاری عظیم تحریک کی وفاداری، شیفتگی، اور ایثار و قربانی کا اعلان ہے جو تاریخی پس منظر دو قومی نظریہ اورتکمیل پاکستان کی تحریک ہے ۔ 1947ء ے لیکرآج تک ملت اسلامیہ کشمیرنے دہلی کے تمام فیصلوں سے اپنے آپ کونہ صرف بالکلیہ انقطاع میں رکھابلکہ انہیں پائے حقارت سے دیکھا۔علیٰ ہذاالقیاس ارض کشمیرپر یہ کبھی ہوہی نہیں سکاکہ دہلی کے اعلان پرکشمیری مسلمانوں نے روزے رکھے ہوں یاعیدمنائی ہو۔انہوں نے ہمیشہ اسلام آباد کے اعلان رویت ہلال پر روزے رکھے اورعید بھی منائی۔ ان کے اس کرداروعمل سے دراصل وہ عظیم رشتہ الم نشرح ہوتاہے جس کے سامنے برطانوی سامراج اورہندورام راج نے جبری دیواریں کھڑی کرکے استوار ہونے نہیں دیا۔لیکن اس جبر کے باوجود ملت اسلامیہ کشمیرکی مملکت خدادادکے ساتھ مناسبت اورمحبت خاص نے ہمیشہ تقویت پائی۔ بھارت کے بجائے پاکستان کے ساتھ روزے رکھنے اورعید منانے سے ملت اسلامیہ کشمیر کے قوت محرکہ اپنے سچے موقف،اخوت اسلامی ،دینی غیرت ،تحریکی تعمق ،علوہمتی ،قوت ارادی ،عمل بالعزیمت ، عزم بالجزم ، استقلالی طبیعت، کورنش بجالانے کا قلاوہ دور پھینک کر مردم آفرینی، حریت سازی اور استقامت علیٰ الحق کا دو ٹوک اظہارکرکے بھارتی قیادت مودی ، امیت شاہ ، راج ناتھ سنگھ،منوج مکند نرونے ،اجیت ڈوول اور مکدر مزاج ارنب گوسوامی اور سدھیر چوہدری جیسے بچہ جموروںکے منہ پرعبرت انگیز اور زور دار طمانچہ مار کر انہیں سمجھاتے ہیںکہ کشمیری مسلمانوں کو تادم زیست جبری غلامی میںنہیں رکھا جا سکتا۔ پاکستان کیساتھ خوشی ،غمی کا یہ اظہار کشمیرکے شیرجوان بیٹوںکی دھاڑہوتی ہے جسے بھارت کی فصیلوں میں دراڑیں پڑرہی ہیں۔بھارت کے اندوختے پسپاوغارت اوراسکے ایوانوں کے چراغ گل ہوجاتے ہیں۔ریاستی دہشت گردی جارے رکھے جانے کے باوجود اسے کشمیرپراپناجابرانہ قبضہ اورجارہانہ تسلط کافورہوتاہوا نظرآتاہے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان کی طرف سے ہلال عیدکے اعلان پرعید منانا اسلامیان کشمیر کا بھارت کے خلاف اورپاکستان کے حق میں ریفرنڈم کاعملی اظہار تھاجس کے سامنے بھارت کے بے بنیاد موقف کی کوئی تاریخی، اخلاقی اورعلمی توجیہہ ممکن نہیں۔اس ریفرنڈم نے 5اگست 2019ء کے بعد کشمیرسے متعلق بھارت کے تمام ناپاک منصوبوں کوبالفعل خس و خاشاک کی طرح بہا دیاہے ۔’’ہم پاکستانی ہیںپاکستان ہمارا ہے‘‘ ملت اسلامیہ کشمیر کے اس نعرہ کی زوردارگونج بھارت کے لئے جانکاہ ثابت ہو رہی ہے۔ کشمیرمیں آزادی برائے اسلام اورالحاق پاکستان کے نعرہ حق بلندہونے سے بھارت کے نیتائوں کے چہروں کارنگ فق ہوجاتاہے اوراس پرمردنی چھاجاتی ہے ۔وہ اپنے چوپالوں میں برملااعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے جس قدر کشمیری مسلمانوںکو دبایا اسی قدران کا’’نعرہ پاکستان ‘‘صدائے جرس بن کرانکی نئی صف بندی کاباعث بنتارہا۔