سرینگر ( 92 نیوزرپورٹ) بھارتی فورسز کی پیلٹس کا شکار ہونے والے گیارہویں جماعت کے طالبعلم اسرار احمد کی شہادت کی خبر عالمی میڈیا پر آتے ہی بھارت بوکھلا اٹھا ، بھارتی لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلوں نے دعویٰ کیا کہ اسرار احمد کی شہادت پتھر لگنے سے ہوئی لیکن حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں جسے نہ صرف بھارت کا اپنا میڈیا پہلے سامنے لایا بلکہ اب عالمی میڈیا نے بھی پردہ چاک کردیا ہے ۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں شہید اسرار احمد کے والد کا انٹرویو شامل کیا گیا ہے جن کا کہنا ہے اسرار اس روز گراؤنڈ میں بیٹھا کیرم کھیل رہا تھا جب انھوں نے اس کے سر پر گولی ماری،اسرار کے والد نے اپنے بیٹے کی تصویر دکھادیں جس میں چہرے پر جابجا پیلٹس لگی ہوئی ہیں، انہوں نے سوال کیا کیا پتھر ایسا کرسکتے ہیں،اسرار احمد تقریباً ایک ماہ تک زندگی اور موت کی جنگ لڑتا رہا ، ہسپتال میں اسے جان بچانے والی مشینوں پر رکھا گیا تھا،ظلم کی داستان یہی ختم نہ ہوئی،درندہ صفت بھارتی فورسز نے شہید اسرار احمدکی آبائی قبرستان میں تدفین کی بھی اجازت نہ دی،بہادر کشمیری اپنے بیٹے کو کندھا دینے باہر نکل آئے ، آزادی کے نعروں میں اسرار احمد کو سپردخاک کیا گیا۔