ہم ایک بار پھر دوراہے پر کھڑے ہیں‘ وہی کیفیت جو غالب پر طاری تھی ؎ ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے‘ کلیسا مرے آگے کابینہ میں ردوبدل پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے اور عمران خان نے اپنا یہ اختیار استعمال کر کے برا کیا نہ کچھ عجیب۔ اگر ٹیم کا کوئی رکن کپتان کی توقعات پر نہیں اترتا اور شائقین بھی بور ہو رہے ہیں تو تبدیلی میں مضائقہ کیا ہے؟۔ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی بات الگ ہے کہ وہ عوام ‘پارٹی اور ملک سے زیادہ ذاتی و خاندانی وفاداری اور مفاد کو ترجیح دیتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے چھ آٹھ ماہ میں کابینہ کے کئی ارکان حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بدلا‘1971ء میں وفاقی اور چاروں صوبوں کی کابینہ کا حصہ بننے والے اہم رہنما 1977ء میں شریک سفر نہ تھے۔ سیاسی ضرورت کے مطابق نئے چہرے متعارف ہوئے کنونشن لیگ اور قیوم لیگ سے وابستہ سیاستدان پیپلز پارٹی اور حکومت کا حصہ بنے اور جے اے رحیم‘ میاں محمود علی قصور میر علی احمد خان تالپور‘ میر رسول بخش تالپور‘ عبدالحمید جتوئی‘ محمد حنیف رامے‘ غلام مصطفی کھر ‘ مختار رانا و دیگر بھٹو کے جیالے ‘ متوالے ع بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے گنگناتے مخالف صفوں میں شامل ہو گئے عمران خان کو تاحال کوئی وزیر‘ مشیر چھوڑ کر گیا ہے ‘نہ کسی نے ردوبدل پر ناک بھوں چڑھائی۔ اسد عمر‘ فواد چودھری ‘غلام سرور خان کے بیانات سے غصہ چھلکتا ہے نہ پارٹی میں کسی سطح پر بے چینی نظر آتی ہے۔ پارٹی ورکر البتہ مزید تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رہے مخالفین تو عمران خان عوام کے لئے آسمان سے تارے توڑنے کی سعی کریں تو تنقید ہو گی کہ یہ کیا کرنے چلے ہیں کبھی کسی نے یہ حماقت بھی کی ہے وہ سادہ لوح خان اردو زبان کے محاورے کو سچ سمجھ بیٹھے ‘ اتنی بھی عقل نہیں کہ فکشن اور رائیلٹی میں فرق کر سکیں۔ تبدیلی البتہ کسی سطح پر ہو ‘ملک اور قوم کے لئے مفید اور ثمر آور ہونی چاہیے‘ فارسی میں کہتے ہیں کہ گائو رفت و خرآمد‘ اگر تبدیلی کے نام پر پہلے جیسوں کو لا بٹھایا جائے اور ڈائریکشن تبدیل ہو نہ مایوسی و بے چینی کا خاتمہ تو یہ بے مقصد مشق ہو گی۔ دفع الوقتی بلکہ وقت کا ضیاع۔ اسد عمر کی جگہ حفیظ شیخ میں فرق صرف تجربے اور انداز فکر کا نہیں‘ بیورو کریسی اور عالمی مالیاتی اداروں کے علاوہ واشنگٹن‘ بیجنگ‘ برسلز اور لندن میں قبولیت کا بھی ہے۔ اسد عمر اگر ڈاکٹراشفاق حسن اور ان کے ساتھیوں کے مشورے پر عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے‘ ملک کو خود انحصاری اور خود کفالت کی منزل تک لے جانے کے لئے کوئی ایسی حکمت عملی وضع کر پاتے جو مفلوک الحال عوام پر ناقابل برداشت بوجھ ڈالے تو بغیرملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں مددگارہوتی۔ میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی معاشی ٹیم سے نجات حاصل کرنے کی شعوری تدبیر کرتے اورڈالر کی قدر میں اضافے سے پہلے کابینہ نہ سہی عمران خان کو اعتمادمیں لے لیتے تو قوم سمجھتی کہ وہ پارٹی منشور اور لیڈر کی ترجیحات پر عمل پیرا ہیں اور انہیں مزید وقت ملنا چاہیے‘ عمران خان عوام کو باور کرا سکتے تھے کہ ہم پاکستان کو امریکہ اور اس کے گماشتہ عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکالنے کی تگ و دو کر رہے ہیں ‘لہٰذا اقتصادی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے جس کا مقابلہ حکومت اور قوم مل کر کرے‘ لیکن اسد عمر نے بھی وہی راستہ چنا جو اسحق ڈار اور اس کے پیشرو وزراء خزانہ کا متعین کردہ تھا ؎ وفا کیسی‘ کہاں کا عشق‘ جب سر پھوڑنا ٹھہرنا تو پھر اے سنگ دل‘ تیرا ہی آستاں کیوں ہو چین ہمارا یار ہے‘ اس پہ جاں بھی نثار ہے لیکن قومی اقتصادی و معاشی نظام امریکہ و یورپ کا تیار کردہ ہے اورہمارے اقتصادی و معاشی کے علاوہ سیاسی و دفاعی ماہرین کا قارورہ امریکہ و یورپ سے ملتا ہے‘ دونوں کی زبان انگریزی ہے اور اشرافیہ کے بچے آکسفورڈ ‘ کیمبرج‘ ہاورڈ‘ میں پڑھتے ہیں‘ بیجنگ جتنی بھی ترقی کرے‘ اشرافیہ کے نزدیک وہ تھرڈ ورلڈ کے ایک ملک کا دارالحکومت ہے جس سے ہم بوقت ضرورت امداد تو طلب کر سکتے ہیں‘ سمندر سے گہری‘ ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی کا رنگ بھی الاپیں گے مگر اکتساب فیض کے قائل نہیں۔ محنت‘ عزت و وقار ‘ خود مختاری اور خود انحصاری کا سبق سیکھنے کے ہم عادی نہ خواہش مند‘ جب انحصار امریکہ و یورپ اور اس کے عالمی مالیاتی اداروں پرہے اور عمران خان نے بھی اردگرد وہی لوگ اکٹھے کر لئے‘ جو مغرب کے ذہنی غلام اور اس کے نیو ورلڈ کے ثنا خواں ہیں تو یہ توقع عبث ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور دارالحکومت ‘پاکستان کے مالیاتی و انتظامی اداروں سٹیٹ بنک‘ ایف بی آر وغیرہ میںبراجمان ان کے گماشتہ ایک ایسے آدمی سے ڈیل کریں جسے وہ اپنا نہ سمجھتے ہوں۔ حفیظ شیخ موزوں آدمی ہیں اندرون اور بیرون ملک سب کے لئے قابل قبول اور اس نظام کی باریکیوں کوسمجھنے والے جس کی بیساکھیوں پر قومی معیشت قائم ہے۔ اسد عمر آٹھ ماہ میں اگر اپنی نظریاتی ٹیم نہیں بنا سکے‘ مختلف مافیاز پر کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہے تو غلطی کس کی ہے؟۔ اگر حفیظ شیخ بھی عمران خان کی توقعات پر پورا اترے نہ معیشت کو درست ٹریک پر لا سکے تو یہ ان قوتوں کے لئے دھچکا ہو گا جن کا حفیظ شیخ حسن انتخاب ہیں۔ عمران خان تو پھر بری الذمہ ہوں گے کہ موصوف ان کے نورتنوں میں تھے نہ پارٹی میں شامل۔حفیظ شیخ کے لئے چیلنج کیا ہے؟ مہنگائی پر قابو‘ بے روزگاری میں کمی اور صنعت و تجارت کا پہیہ رواں کرنا۔ تحریک انصاف اور عمران خان کے لئے معیشت سے بھی بڑا چیلنج پنجاب ہے جس کے معاملات اب تک سدھرنے میں نہیں آ رہے۔ پنجاب تحریک انصاف کا بیس کیمپ ہے۔ پرانا محاورہ ہے کہ جس کا ملتان مضبوط‘ اس کا دلی بھی مضبوط ‘ اب پنجاب میں کسی پارٹی کا اثرونفوذ ہی پاکستان کے اقتدار کو مستحکم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب سے در بدر ہوئی تو مرکز میں بھی تین باراقتدار ملنے کے باوجود قومی سیاست میں اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکی‘ مسلم لیگ نے صرف وسطی پنجاب کے زور پر مرکز میں تین باریاں لیں اور پیپلز پارٹی جیسی وفاقی پارٹی کو ناکوں چنے چبوائے۔ شنید یہ ہے کہ ریاست کے اہم ادارے عثمان خان بزدار کی پرفارمنس پر تحفظات کا اظہار کر چکے‘ اخبار نویسوں کے ایک منتخب گروپ نے اپنے کانوں سے ریاستی تحفظات سنے‘ جس میں اتفاق سے یہ کالم نگار بھی شامل تھا۔ مگر خان صاحب ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں‘ پچھلے ماہ قومی اخبارات کے ایڈیٹرز سے ملاقات میں وزیر اعظم نے عثمان خان بزدار کے بارے میں وہی کچھ دہرایا جو آٹھ ماہ سے قوم سنتی چلی آ رہی ہے حوالہ انہوں نے میاں نواز شریف کی سیاست میں آمد اور پرفارمنس کا دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ نواز شریف کی پرفارمنس 1985ء سے 1988ء کے دوران بہت بہتر تھی۔ بعض لوگوں کو مثالی کہنے میں بھی عار نہیں کہ میاں صاحب کے اردگرد قابل اور ذہین بیورو کریٹس کے علاوہ گرم سرد چشیدہ سیاستدانوں ‘ دانشوروں اور صحافیوں کا جمگھٹا تھااور کائیاںنواز شریف ان سے رہنمائی کے طلب گار۔نواز شریف شرمیلے تھے مگر آگے بڑھنے اور کچھ کر دکھانے کی خواہش سے مغلوب‘ شریف خاندان کی میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ مثالی رہی اور دوسروں کو مقصد براری کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت حیرت انگیز۔ عثمان بزدار کو چودھری محمد سرور‘ چودھری پرویز الٰہی اور علیم خان کے علاوہ اپنی کابینہ کے چند ارکان کا خوش دلانہ تعاون حاصل نہیں۔ بیورو کریسی مزاحم اور ناقص مشیروں پر تکیہ۔ اگر عمران خان اور ان کے بہی خواہ اور فیصلہ ساز حلقے کی سوچ میں اس معاملے پر تضاد پیدا ہو چکا تو وہ مزاحمت سے کس کا بھلا کریں گے؟۔ بہتر یہی ہے کہ کابینہ میں تبدیلی کا فائدہ اٹھا کر وہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں بھی جرات مندانہ اقدام کر ڈالیں تاکہ اپنے اور جمہوری نظام کے علاوہ ملک و قوم کا نقصان نہ کربیٹھیں۔ وفاقی کابینہ میں ردوبدل اگر ڈیڑھ دو ماہ قبل ہوتا تو بہتر تھا تاخیر کا نقصان حکومت اور پارٹی دونوں کو ہوا‘ باقی معاملات میں بھی تاخیر کئی قباحتوں کو جنم دے گی۔ سب سے زیادہ اندیشہ سول ملٹری تعلقات کے بگاڑ کا ہے‘ خدا نہ کرے کہ سول ملٹری تعلقات اندیشہ ہائے دور دراز سے دوچارہوں۔