نئی دہلی ،سرینگر(این این آئی)بھارت نے کشمیر کی حامی برطانوی خاتون رکن پارلیمنٹ کو ایئر پورٹ سے ہی ڈیپورٹ کر دیا، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کو مسترد کر دیا، جبکہ مقبوضہ وادی میں لاک ڈائون جاری ہے ،صحافی مزدوری پر مجبور ہوگئے ۔ بھارت نے کشمیر مخالف پالیسیوں پر بھارت پر کڑی تنقید کرنے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمزکو نئی دہلی کے اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر آمد کے بعد ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ۔ لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز جو برطانوی پارلیمنٹ میں کل جماعتی کشمیر پارلیمانی گروپ کی سربراہ بھی ہیں کے برطانیہ میں سرکاری دفتر کے مطابق بھارتی ائیر پورٹ پر کسٹمز حکام نے بغیر کسی وجہ کے انکا بھارت کا ویزہ جو اکتوبر 2020تک موثر تھا کینسل کردیا اور انہیں دبئی ڈیپورٹ کردیا،ڈیبی ابراہمزو دوروزہ دورے پر بھارت پہنچی تھیں۔ڈیبی ابراہم نے گزشتہ سال اگست میں بھارتی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی پر کڑی تنقید کی تھی ۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ نے اپنے ٹویٹ میں بھارتی رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ویزہ مسترد کرتے ہوئے امیگریشن افسر نے انتہائی بدتمیز ی کامظاہرہ کیااور مجھے زبردستی ڈیپورٹ سیل میں لے جا کر جہاز میں سوار کرادیاگیا۔ ادھر بھارت کی وزارت امور خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر میں تیسرے فریق کی ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ بھارت کو امید ہے کہ انتونیو گوتریس سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدام اٹھانے پر زور د ینگے ۔ دریں اثنامقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن جاری ہے ، تمام کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں ۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کشمیر میں 29 سالہ صحافی منیب الاسلام اور ان جیسے دیگر کشمیری صحافیوں کے پاس رپورٹنگ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا۔منیب کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ خاندان کی روزی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے 500 روپے دیہاڑی کے عوض زیر تعمیر عمارت پر اینٹیں ڈھونے کا کام کرتے ہیں۔ دیگر صحافیوں میں سے کوئی ڈیری فارم پر کام کررہا ہے تو کوئی اسی طرح کے چھوٹے موٹ کام کرکے پیٹ کا ایندھن بھرنے کی کوشش کررہا ہے ۔