لاہور(اشرف مجید)شہر بھر میں ڈی کلاس بس سٹینڈوں سے کمیشن پرگاڑیاں چلانے کے انکشاف پر اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کر دیں ،محکمہ ٹرانسپورٹ سے ڈی کلاس سٹینڈز کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کر لی گئی ،لائسنس کی تجدید نہ ہونے کے باوجود ڈی کلاس بس اڈے کس طرح چل رہے ہیں ،انکو روٹ کس طرح دئیے جا رہے ہیں جواب مانگ لیا گیا ،ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے افسران سمیت متعدد ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ہے ،پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو فوری رپورٹ جمع کرانے کا حکم جاری کر دیا ہے ،تفصیلات کے مطابق لاہور میں موجود تمام ڈی کلاس بس سٹینڈز جن میں احمد ٹریول بند روڈ ،نیازی ،سکائی ویز ،بلال ٹریول ،نیو خان ،رہبر ٹریول شامل ہیں ان تمام بس اڈوں کے حوالے سے رپورٹ تیار کی گئی ہے کہ ان بس اڈوں سے 70فیصد سے زائد گاڑیاں کمیشن پر چلائی جا رہی ہیں جس پر ان تمام بس اڈوں کے لائسنس کی تجدید بھی بند کر دی گئی تھی لیکن اسکے باوجودان اڈوں کے خلاف محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے جبکہ جو کارروائی کی جاتی ہے وہ صرف کا غذی کارروائی کی حد تک ہے جس پر ڈی جی اینٹی کرپشن اعجاز شاہ کی ہدایت پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے محکمہ اینٹی کرپشن نے لاہور میں موجود ڈی کلاس بس اڈوں کی تفصیلات موٹر وہیکل رولز کے قوانین کے مطابق ایک بس اڈے کی اپنی بسوں کی تعداد ،سمیت دیگر تمام تفصیلات طلب کر لی ہیں اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے اب تک ڈی کلاس سٹینڈ ز جو اس وقت لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر غیر قانونی قرار دئیے جا چکے ہیں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے اسکی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں جبکہ ان ڈی کلاس بس سٹینڈوں سے چلنے والی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ کی تفصیلات بھی مانگ لی گئی ہیں کہ لائسنس کی تجدید بند ہونے کے بعد کتنی گاڑیوں کو اور کس قانون کے تحت روٹ پرمٹ جاری کیا گیا ہے اور اگر نہیں کیا گیا ہے تو گاڑیاں کس قانون کے تحت چل رہی ہیں اور اگر انکے خلاف کارروائی کر کے بند کیا گیا ہے تو اسے دوبارہ کیوں چلنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے اسکی تفصیلات دی جائیں ،ذرائع کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن نے ڈی کلاس سٹینڈز کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے انہیں تحفظ دینے والے سرکاری افسران کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دی ہے ،جس میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے افسران اور دیگر ملازمین کے نام سامنے آنے کے امکانات ہیں ،ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کی جانب سے تحقیقات شروع ہونے پر گزشتہ روز پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو فوری طور پر تمام تفصیلات دینے کی ہدایت کی ہے تا کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوائی جا سکیں ۔