مکرمی !اس وقت دنیا کورونا کی عالمی وبا سے نبردآزما ہے، موودی نے مقبوضہ کشمیر میں جبری کرفیو ختم کرنے،سیاسی قیدیوں کی رہا کرنے کے بجائے، وادی میں ڈومیسائل قوانین کا ڈرامہ رچا لیا ہے، موودی کو سمجھ جانا چاہیے تھا کہ ا س کی سفاکی نے پوری دنیا کو لاک ڈوان میں بدل دیا، اب دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ دنیا قلیل عرصہ کے لاک ڈائون سے پریشان، جبکہ کشمیر ی کرفیو میں سات ماہ سے قید ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں ظالم اور سفاک فوج سیاہ قوانین کا سہارا لے کر انسانی آبادی کو مٹا ڈالنے کے درپے ہے۔ پیلٹ اور بلٹ نہتے لوگوں کا مقدر ہوکر رہ گئی ہیں، اور ان میں جنس کا کوئی لحاظ ہے اور نہ عمر کی کوئی قید، حالات کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے، وادی سے ہندو یاتریوں، سیاحوں اور غیر کشمیری طلبا کو واپس لوٹنے کے حکم سے عوام میں خوف و ہراس کا سماں ہے۔ بلاشبہ آج پاکستان ایک عظیم آزمائش سے دوچار ہے، وہیں ان حالات اور مشکلات کے علی الرغم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی مدد کیلئے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔ (عابد ہاشمی ،آزاد کشمیر)