لاہور،ملتان،پشاور(جنرل رپورٹر،نیوز رپورٹر ، صباح نیوز)کورونا کی دوسری لہر کے دوران لاک ڈائون اور موسم سرما کی تعطیلات کے بعد ملک بھر میں پرائمری و مڈل سکولز، کالجزاور یونیورسٹیزمیں بھی دوبارہ ان کیمپس تعلیمی سرگرمیوں، کلاسز کا آغاز کردیا گیا اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کا پابند کیا گیا جبکہ لاہور کے سرکاری سکولوں سے ایک اور کیس سامنے آگیا اورمجموعی تعداد 11 ہوگئی ۔گزشتہ روزکراچی، لاہور، پشاور، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں نصف طلبہ کی حاضری کیساتھ تعلیمی ادارے کھلے ، باقی پچاس فیصد طلبہ کو آج بلایا جائیگا ۔ دوماہ سے زائد عرصہ گھروں میں گزارنے کے بعد سکولوں کو واپسی پر کمسن طلبا و طالبات کی جانب سے خوشی اور نا گواری کے ملے جلے تاثرات نظر آئے ۔پرائمری سیکشن کے بعض بچے سکول کے گیٹ پر منہ لٹکا کر کھڑے اور روتے ہوئے بھی پائے گئے ۔ماسک پہنے ہوئے طلبہ اور سٹاف کو تعلیمی اداروں میں پہنچنے پرتھرمل گن سے درجہ حرارت چیکنگ، ہاتھوں کی سینیٹائزنگ کے مراحل سے گزار کر تدریسی سیکشن کی طرف جانے کی اجازت دی گئی۔ ماسک کے بغیر سکولوں میں داخلہ منع تھا۔کلاسز میں تدریس کے دوران طلبہ کو سماجی فاصلہ کے تحت بٹھانے کے انتظامات کئے گئے ۔ کلاسز میں پنسل، کتاب،کاپی ایک دوسرے کو نہ دینے کی ہدایت کی گئی۔ تفریح کے دوران طلبہ کو اپنے ٹفن کا کھانا بھی ایک دوسرے سے شیئر نہ کرنے کا کہا گیا۔ اگرچہ صبح کے وقت سکول آمد پر سماجی فاصلہ کے تحت سکول داخلہ کا خیال رکھا گیا لیکن بعد دوپہر چھٹی کے وقت گیٹ پر رش لگ جانے کے باعث کورونا ایس پیز کی خلاف ورزی دیکھنے میں آئی۔ویگن، رکشہ اور ذاتی سواری پر سکول آمدورفت کے دوران بھی سماجی فاصلہ کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔دوسری جانب سرکاری حکام کی طرف سے ہدایت کی گئی کہ پرائمری اور مڈل سیکشن کی کلاسز اورطلبہ کی صبح و دوپہر کو انٹری اور آئوٹ کی ویڈیوز سرکاری واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ کئی طلبہ کا کہنا تھا کہ آن لائن سے زیادہ کلاس میں بیٹھ کر پڑھنا اچھا لگتا ہے ، ہم اپنے دوستوں اور ٹیچرز کو یاد کر رہے تھے ۔ سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی لاہورپرویز اختر کا کہنا ہے کہ 63 افراد پر مشتمل ٹیمیں سکولوں کا وزٹ کررہی ہیں۔ تاحال نجی سکولوں سے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ دوسری طرف جامعات میں پہلے روز پہلے اور آٹھویں سمسٹر کے طلبہ کو بلایا گیا جبکہ ہاسٹلز میں 30 فیصد طلبہ کو رہائش کی اجازت تھی۔یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں بھی ان کیمپس کلاسز کا آغاز ہوگیا، ترجمان کے مطابق یو نیورسٹی آف ہوم اکنامکس انتظامیہ کی جانب سے داخلی راستوں پر ایس و پیز پر عملدرآمد کیلئے چیکنگ کی گئی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر کنول امین کا کہنا تھا کہ تمام طلبہ ماسک لازمی پہنیں، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں جبکہ تمام اساتذہ اور ملازمین ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ادھرمحکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا نے سر ی زیادہ ہونے پر سرمائی علاقوں کے کالجز کی چھٹیوں میں15فروری تک توسیع کرنیکا اعلامیہ جاری کردیا۔