کوروناوائرس کی تباہ کاریوں کی مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے تمام صوبوں میں جوصورتحال ہے اسے تسلی بخش کہا جا سکتا ہے ۔تادم تحریرمظفرآبادمیں صرف ایک مریض میں کورونا وائرس کاپازیٹیوٹیسٹ آیاہے اوراب تک کسی شخص کی موت اس وباکے باعث واقع نہیں ہوئی۔اس کی ایک خاص وجہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکی جانب سے 23مارچ کو پورے آزاد کشمیرمیںلاک ڈائون کے لئے مناسب ایکشن پلان مرتب کرنااوراس پرسختی کے ساتھ عمل کرواناہے ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کوروناکے خلاف صف آراہونے کے عمل کاآغاز اپنے گھرسے کیااور مظفرآبادمیںنئے تعمیرشدہ وزیراعظم ہائوس اوراسکے ساتھ تمام سرکاری آفیسرز کلب، ہوٹلز، ریسٹ ہاوسز کو آئیسولیشن سینٹرز، قرنطینہ میں بدل دیا۔ایک طرف آزادکشمیرکے چالیس لاکھ عوام کوکوروناکی وباسے بچانے کے لئے حکومت آزادکشمیرحکومت پاکستان کے ساتھ یکسوہوکر مصروف جدوجہدہے مگر دوسری طرف بھارت کی کورونازدہ فوج جبری طورپرمنقسم کرنے والی جنگ بندی لائن کے قریب رہنے والی آزادکشمیر کی سول آبادی پراپنی بوفورس توپوں کے دہانے کھول کرگولہ باری کررہی ہے۔جس کے باعث تادم تحریرایک شہری جاںبحق اور کئی شدیدزخمی ہوئے جبکہ کئی مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔کوروناوائرس کی عالمگیروبامیں پھنسی انسانیت کے دوران جنگ بندی انڈیاکی کورونازدہ فوج کی گولہ باری کامطلب یہ ہے کہ آزادکشمیر کوروناسے سے توبچاتھالیکن انڈیاکوآزادکشمیرکی یہ صورتحال قطعی طورپر برداشت نہیں ہورہی ۔ بھارت نے ہمیشہ جنگ بندی لائن کے قریب آزادکشمیرکے علاقوں میں رہ رہی سول آبادی کوہدف بناکران کی جانوں اوران کی املاک کو نقصان پہنچایا،بھارتی فورسز تمام عالمی قوانین اوراقدار کی دھجیاں اڑاکر کلسٹر بم تک استعمال کرتی رہی۔واضح رہے کہ مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد جنگ بندی لائن پرگولہ باری میں ہوشربا اضافہ ہوا۔12اپریل اتوارکوبھارتی قابض فوجیوں نے اپناآرٹلری، توپخانہ مقبوضہ کشمیرکے ضلع کپواڑہ کے پنزگام گائوںمیں پہنچایاتو بستی کے لوگ گھروں سے نکلے اورقابض فوج کے اس اقدام پراحتجاج کیاکہ ان کی بستی کوآزادکشمیرکی بستیوں پرگولہ باری کرنے کے لئے استعمال نہ کیا جائے کیونکہ پاکستان کے ردعمل دکھانے پرانکی بستی نشانہ بن سکتی ہے۔ پنزگام اورگردونواح کے لوگوں کی قابض بھارتی فوجیوں سے اس بابت ہاتھاپائی بھی ہوئی جس کی ویڈیوکلپ سوشل میڈیاپروائرل بھی ہوئی لیکن اس کے باوجودقابض بھارتی فوجیوں نے توپخانہ پنزگام گائوں میں ہی نصب کیااوروہیں سے آزادکشمیرکے علاقوں کونشانہ بناتے رہے ۔افواج پاکستان کی آرٹلری نے مقام کاتعین کرکے قابض فوج کی نصب شدہ آرٹلری کونشانہ بناکراس کاتیہ پانچہ کرکے رکھ دیا۔واضح رہے کہ پنزگام گائوں جنگ بندی لائن پہ واقع سے تھوڑی دوری پر ہے ۔ خیال رہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے 23مارچ کو عالمی فائر بندی کی اپیل کی تھی تاہم سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی اپیل کے برعکس بھارتی رویہ اشتعال انگیز ہے ۔بھارت نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اپیل سب ہوا میں اڑا دئیے ۔بھارت فائر بندی کی خلاف ورزیوں کیساتھ نہتی شہری ا ٓبادی کو نشانہ بنا رہا ہے ،بھارتی اشتعال انگیزی کی وجہ کورونا وبا کیخلاف ناقص حکمت عملی پر داخلی تنقید ہے ۔بھارت میں کورونا سے اموات ہزاروں میں واقع ہوئیں مگرانہیں جان بوجھ کرچھپایاجارہاہے جبکہ متاثرہ کیسز کی تعداد لاکھوںتک پہنچ چکی ہے۔ اس حقیقت کے برعکس درست اعدادوشمارچھپائے جارہے ہیں۔ بھارت میں کوروناوائرس کی تباہ کاریاںسنگین ہیں اورمودی کی لاک ڈائون کی بھونڈی منصوبہ بندی کے باعث بھارتی باشندے اب سڑکوں پر مررہے ہیں۔ اس وقت بھارتی فوج کی طرف سے ایک بار پھرآزادکشمیرکے کئی علاقوں پرگولہ باری کی اطلاعات آرہی ہیں اس طرح تازہ صورتحال یہ ہے کہ گذشتہ تین دنوں سے بھارتی فوج نے جنگ بندی لائن کے ملحقہ آزادکشمیرکے علاقوں شاردہ، شاہ کوٹ، نکیال اور دوھنیال سیکٹرکو بھاری توپ خانے اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا ہے جس سے آزاد کشمیرکے یہ دیہی علاقے پیچ وتاب میں مبتلاہیں ۔ ایک طرف پوری دنیا آج کورونا وائرس کے ہاتھوں پریشان ہے، کئی ملکوں نے اپنی جنگی مہمات روک رکھی ہیں، ایک دوسرے کو نشانہ بنانے سے احتراز کیا جا رہا ہے لیکن بھارت دنیا کاواحدملک ہے کہ جس کے وزیراعظم جنگ کی خناس میں مبتلاہے۔ اس صورتحال پر جتناافسوس کیاجائے کم ہے ۔ مودی ماینڈسیٹ ایک طرف مسلمانان بھارت کونابودکرنے پہ تلابیٹھاہے تودوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل کو ختم کرتے ہوئے سرزمین کشمیرپر بھارت کے کروڑوں ہندوئوں کو بسانے کیلئے شرمناک منصوبہ سازی کررہا ہے۔اس دوران بھارتی فوج میں کوروناوائرس کے ہوشربااعدادوشمار سامنے آنے پربھارت نے اس خوفناک صورتحال سے فوجیوں کی توجہ ہٹانے کے لئے کوروناوائرس زدہ فوج کو سے جبری طورپرجنگ بندی لائن پر آزادکشمیرکی شہری آبادیوں پر گولہ باری کرنے پرلگادیاہے۔ ایسے میں جب پوری دنیاکورونا وائرس کی بڑی مصیبت میں پھنس چکی ہے۔ عالمی اداروں میںسے کون مودی پرلعنت ملامت کرے گا ۔اس لئے کل کی طرح آج بھی اس کاایک ہی علاج ہے کہ افواج پاکستان پوری مستعدی کے ساتھ بھارتی فوج کی قابضانہ پوزیشنوںپرمسلسل آگ برساتی رہیں اوربھارتی فوج کے انگ انگ پروارپروارکرتی رہیں ۔