نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے مطابق ملک میں مصدقہ کورونا کیسز کی تعداد 4لاکھ 3ہزار 3سو 13ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں 24گھنٹوں میں 75افراد جاں بحق جبکہ 2244مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران نہ صرف وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے بلکہ اس بار مرض کی شدت اور اموات کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین طب پہلے ہی احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی سفارش کر چکے ہیں مگر بدقسمتی سے دوسری لہر کے دوران نہ صرف عوام الناس خطرے کو سنجیدہ نہیں لے رہے بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی قیادت بھی مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافے کے باوجود سیاسی جلسے کر کے وائرس کے مزید پھیلائو کی وجہ بھی بن رہی ہے۔ یہ اسی تساہل پسندی اور ہٹ دھرمی کا ہی نتیجہ ہے کہ مثبت کیسز کی شرح 7.1فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جن شہروں میں سیاسی اجتماعات ہو رہے ہیں۔وہاں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔پی ڈی ایم تمام تر خطرات کے باوجود 13دسمبر کو لاہور میں جلسہ کرنے پر بضد ہے۔ اس حوالے سے ایک شہری نے لاہور میں جلسہ رکوانے کی عدالت سے استدعا بھی کی ہے ۔بہتر ہو گا پی ڈی ایم قیادت عوامی مفاد میں از خود جلسہ موخر کر دے یا پھر عدلیہ عوامی مفاد میں حکم جاری کرے تاکہ کورونا وائرس کے مزید پھیلائو کو روکا جا سکے۔