لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے رہنما چودھری منظور احمد نے کہا ہے کہ ابھی تک تین جماعتیں ایم کیوایم ، بی این پی اورصوبہ محاذ معاہدہ کرچکا ہے جبکہ آزاد اورق لیگ کے لوگ زبانی معاہدے کرکے آرہے ہیں۔ پروگرام نیوزروم میں میزبان ثنامرزا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایم کیوا یم سے ہمارا وفا ق اورسندھ میں اتحادہوسکتا تھا اوربلوچستان میں بھی ہم حکومت بناسکتے تھے لیکن ہم نے نہیں کیا۔ایم کیوایم ، بی این پی مشکل اتحادی ہیں حکومت بننے کے بعد پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھیں گی۔ کئی ایسے کھلاڑی بھی ہیں جو اپنی ٹیم کے خلاف گول کرجاتے ہیں۔ سینئر صحافی مظہرعباس نے کہا پرابلم نمبر گیم کا نہیں شاید وہ توپورے ہیں وہ سپیکر، ڈپٹی سپیکراوروزیراعظم کا الیکشن جیت جائیں گے اورانہیں مشکل ان اتحادیوں سے ہوگی جن کو ملا کروہ حکومت چلائیں گے یہ اتحادی ہی حکومت کومشکل میں ڈالیں گے ۔ جن شرائط پر انہوں نے معاہدے کئے ہیں ان میں مشکلات آئیں گی۔ ا پوزیشن کا سب سے بڑا ٹیسٹ سپیکرکے الیکشن پر ہوگا کیونکہ خفیہ رائے دہی سے الیکشن ہوناہے ۔ا گر انہیں کم ووٹ پڑتے ہیں تو پھر پتہ چلے گا کہ انکے بندے مزید چلے گئے ۔ اگر عمران خان اپنے کارکنوں کو کنٹرول نہیں کرسکیں گے توان کی پارٹی کو خود نقصان ہوگا۔احتساب بلا امتیازنہیں ہوگا ایسے لوگ بھی ہونگے جنہیں نیب پکڑ نہیں سکتی۔ ن لیگ کے رہنما جعفر اقبال نے کہا الیکشن کے روز کے حوالے سے بہت سارے اعتراضات ہیں اوروہ رہیں گے ،181 بہت مضبوط نمبر نہیں ہے ہم آخری لمحے تک اس کوشش میں ہیں اوررہیں گے کہ حکومت بنائی جائے بظاہرتو پی ٹی آئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے ۔ خورشید شاہ کے نام کی عزت ہے اورانہیں ادھر ادھر سے ووٹ ملیں گے ۔ پہلی فائٹ سپیکرکے عہدے پرہوگی۔ پی ٹی آئی کے رہنما اعجازچودھری نے کہاکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے حکومت چلانا آسان نہیں ہوگا ہمارے اندر صبر کاپیمانہ ہونا چاہئے اورہماری ساری قانون سازی عوام کیلئے ہونی چاہئے ۔ ایم کیوایم سے معاہدے کی نو شقیں ہیں جو صرف عوام کیلئے ہیں ہم اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو ساتھ لے کرچلیں گے ۔ ہم پنجاب میں بھی حکومت بنا رہے ہیں اگر ہم ذمہ داری کا مظاہر ہ نہیں کرینگے تو جلد ایکسپوز ہوجائیں گے ۔