کراچی (ایس ایم امین) آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے وفاقی حکومت نے ناراض اتحادیوں سے رابطے شروع کردیئے ،پیرپگارا کے بیرون ملک ہونے کے باعث وزیرخارجہ جی ڈی اے سے مشاورت نہ کرسکے ،متحدہ قومی موومنٹ نے آئینی ترمیم کی حمایت کے معاملے پرمشاورت کیلئے مہلت طلب کرلی،اتحادی جماعتوں سے بیٹھک کے بعد تحریک انصاف اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کا لائحہ عمل تیارکریگی، ذرائع نے روزنامہ 92 نیوزکوبتایا کہ ایم کیو ایم نے آئینی ترمیم کے معاملے پرشاہ محمود قریشی کوتعاون کی یقین دہانی کرانے سے گریزکرتے ہوئے مشاورت کیلئے مہلت طلب کرلی،آئینی ترمیم کے معاملے پرتحریک انصاف کی حمایت کے معاملے پرایم کیوایم پاکستان اختلاف رائے کا شکارہے ،وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ کے شہری علاقوں کو بلدیاتی فنڈزکی عدم فراہمی اور دیگرمطالبات پرکوئی پیش رفت نہ ہونے پرایم کیوایم پاکستان کا ایک حلقہ تحریک انصاف سے مزیدتعاون اوراعتماد کیلئے تیارنہیں،ذرائع کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم مرکزپرملاقات میں متحدہ قیادت نے وزیرخارجہ کو اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے عدم تعاون پرسخت تحفظات کا اظہارکیا،دوسری جانب حکومت کی ایک اورناراض اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کی قیادت سے رابطے میں پیشرفت نہ ہونے پربی این پی مینگل سے رابطے کا ٹاسک بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال کوسونپ دیا گیا،علاوہ ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جی ڈی اے کے سربراہ پیرپگارا سے ملاقات کیلئے رابطے اس لیے نتیجہ خیزثابت نہیں ہوسکے کیونکہ پیرپگارا غیرملکی دورے پرہیں تاہم بعض سیاسی مصروفیات کی وجہ سے جی ڈی اے کی صوبائی قیادت نے پیرپگارا کی اجازت کے بغیرتحریک انصاف کے وفد سے ملاقات سے معذرت کرلی،تحریک انصاف ذرائع کا کہنا تھا کہ سینئرقیادت کی ہدایت پرمسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین جی ڈی اے قیادت سے رابطہ کرکے انہیں اسلام آباد مدعو کریں گے ۔ کراچی(92 نیوزرپورٹ،آن لائن)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایم کیو ایم پاکستان وفد سے ملاقات کرکیتحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرادی ۔حکمران جماعت کا وفد ایم کیو ایم کے مرکزبہادرآباد پہنچا اور پارٹی رہنمائوں سے ملاقات کی، پی ٹی آئی وفد میں شاہ محمود قریشی اور عمران اسماعیل کے علاوہ پی ٹی آئی سندھ کے رہنما فردوس شمیم نقوی، حلیم عادل شیخ ودیگربھی شامل تھے ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم وفودکی ملاقات میں صوبے کی سیاسی صورتحال، گورننس کے امور، تحریری معاہدے پر عملدرآمد اور بلدیاتی اختیارات سمیت آرٹیکل 140 اے کے نفاذ پر بات چیت ہوئی۔ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر ملاقات میں وفاق کی جانب سے جاری کردہ گرانٹ ، نئی سکیموں اور کراچی و حیدرآباد پیکیج کا مطالبہ کیا۔ذرائع کا کہنا تھاکہ وزیر خارجہ کے ہمراہ ایک وفد چند دن بعد ایک بار پھر ایم کیو ایم رہنمائوں سے ملاقات کریگاجبکہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات کو جلد دور کیا جائے گا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے سندھ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں متحدہ نے ہمارا ساتھ دیا اور اور اب بھی ہمارے ساتھ ہے ،سیاست و معیشت پر تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا نکتہ نظر ملتا جلتا ہے ، اسلام آباد میں اگلی ملاقات سود مند ہوگی۔ایم کیوایم رہنماخالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم کی پالیسی واضح ہے ،وفاقی حکومت کی غیرمشروط حمایت جاری رکھیں گے تاہم ایم کیو ایم کے مطالبات پر وفاقی حکومت کے کام کی رفتار بہت سست ہے ۔