لاہور(سید مجاہد شاہ)پولیس تشدد کے واقعات کی سوشل میڈیا اورالیکٹرونک میڈیا پر شدید تنقید کے بعد پولیس ملازمین نے اصلاحات کے لیے سوشل میڈیا پر مہم شروع کر دی ، پولیس والوں کو سفارش کرنے کے لیے فون کر کے شرمندہ نہ کریں ، سفارشی کلچر کو ختم اور پولیس کے نظام کو ٹھیک کرنا ہے تو پہلے خود کو ٹھیک کریں ، پولیس ملازمین کی جانب سے فیس بک پر پوسٹیں لگانا شروع کر دی گئی ہیں ۔ایک پولیس اہلکار نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ پولیس کسی کی ذاتی خواہشات کی غلا م نہیں ،پولیس کسی مقام پر بغیر وارنٹ خانہ تلاشی داخل ہونے سے انکار کرے گی، ۔ جلسے جلوس ، گھیرائو جلاو کو عزت اور پیا ر کے ساتھ روکیں گے ۔ پولیس کی کسی سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں، پولیس بس قانون پر عمل کرے گی ، دوسرے اہلکار نے کہا کہ بوڑھی عورت سے بدتمیزی کرنے والا پولیس اہلکار جیل میں جبکہ ایک ڈیوٹی پر مامور لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والا وکیل باہر ہے ، ایک اور اہلکار نے لکھا آج کے بعد کوئی سفارش کے لیے فون کال کر کے شرمندہ نہ کریں ، اگر پولیس کو ٹھیک کرنا ہے تو پہلے خود کو ٹھیک کریں ، ایک اہلکار نے پوسٹ لگائی ہے کہ وہ حلف دیتا ہے ضابطہ فوجداری میں درج اپنے اختیارات کو قانون کے مطابق ہی استعمال کرتا رہوں گا، پولیس کے پاس آنے والے پہلے قانون کی کتابیں پڑھ کر آئیں ، ڈی ایس پی عہدہ کے افسران ا ور ماتحت ملازمین کا کہنا ہے کہ جب بھی افسران تبدیل ہوتے ہیں اور نئے تعینات ہونے والے افسران اپنی پالیسی کے مطابق کام کرتے ہیں اور اسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کے ماتحت ملازمین کام کرتے ہیں، اہلکاروں نے یہ الزام عائد کیا محکمہ پولیس میں ہمارا عہدہ سب سے کم ہے ہم صرف آرڈر کے پابند ہوتے ہیں ، حکم عدولی کریں تو معطل ہوکر پولیس لائن کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ، ، غلط حکم دینے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی شروع ہو جائے تو ہماری بھی حوصلہ افزائی ہوگی ۔