واشنگٹن ( ندیم منظور سلہری سے ) اکتوبر 2007ء میں بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی سے کچھ ہی عرصہ پہلے ایسپن کولوریڈو جاتے ہوئے انہوں نے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد، اہلیہ کے علاوہ مشہور رائٹر Cheryl Benard کے ساتھ اکٹھے سفر کیا تھا جب ایک ائیر ہوسٹس نے انہیں کوکیز پیش کیں پہلے تو انہوں نے انکار کر دیا پھر واپس بلایا اور مزاحیہ انداز میں کہا " کیا فرق پڑتا ہے ، ویسے بھی میں نے چند مہینوں بعد مر جانا ہے یہ الفاظ دہراتے ہوئے انہوں نے کوکیز کھانا شروع کر دیں "مصنف Heraldo Munoz کی معروف کتاب Getting Away With Murder 'Benazir Bhutto's میں مذید لکھا گیا ہے کہ جس روز بے نظیر کو قتل کیا گیا جلسہ گاہ کے خارجی راستوں پر بنے چیک پوائنٹس پر حفاظت کیلئے مامور پولیس اور رینجرز کے اہلکار بینظیر کی لیاقت باغ روانگی سے قبل ہی اپنی جگہیں چھوڑ کر جا چکے تھے ۔خود کش حملہ آور کے اُڑانے سے قبل ہی بے نظیر کو گردن ، سینے میں گولیاں لگ چکی تھیں کتاب میں انکشاف کیا گیا کہ قاتلانہ حملہ میں پیپلزپارٹی کا ایک سرگرم رکن کا بھی ملوث تھا جس نے بینظیر کے سکیورٹی گارڈ خالد شہنشاہ کی طرف اشارہ کیا جو بعدازاں روپوش ہو گیا تھا جب بینظیر خطاب کر رہی تھیں تو خالد شہنشاہ انکے بائیں جانب کھڑا تھا اور مسلسل اپنے بائیں جانب ہاتھ سے اشارہ کر رہا تھا اور کئی بار وہ اسطرح جھکا جیسے گولی سے بچنے کیلئے جھکا جاتا ہے وہ بار بار اپنے گلے پر اُنگلیاں پھیرتا تھا جو عمومی طور پر موت کا اشارہ سمجھا جاتا ہے ۔ بینظیر نے خالد شہنشاہ کو سکیورٹی ایڈوائزر رحمٰن ملک کی سفارش پر رکھا تھا ۔اقوام متحدہ کی جانب سے بینظیر قتل کیس کی انکوائری ٹیم جب پاکستان پہنچی تو اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے 70 صفحات پر مبنی رپورٹ ٹیم کے سربراہ کو دی اور کہا کہ اس سے آپ کو بہت کچھ مل سکتا ہے اور اگر آپ چاہیں تو اسمیں کچھ ردو بدل کر کے یہی رپورٹ شائع کر دیں ۔کتاب کے مصنف جو انکوائری کمیٹی کے سربراہ بھی تھے انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب بھی رحمٰن ملک ملنے آتے تو ہر بار قیمتی تحائف بھی لاتے ہم نے انہیں بتا دیا تھا کہ ہم یہ تحائف قبول نہیں کر سکتے وہ اسکے باوجود اصرار کرتے اور بالا آخر تحائف نیویارک میں قائم Ethics Office کو جمع کرا دئیے ۔ اسکے بعد ہمیں مذید معلومات حاصل کرنے کیلئے تنگ کیا جاتا رہا ،ہماری جاسوسی کی جاتی رہی جس کمرے میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے وہاں بھی کچھ ایسے آلات نصب تھے جو ہماری آواز کو ریکارڈ کرتے ۔مصنف لکھتے ہیں کہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ مشرف بینظیر کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں لیکن بینظیر کے قتل پر مشرف کو ہر سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری سے مبرا بھی نہیں کیا جا سکتا انہوں نے وہ سکیورٹی فراہم نہیں کی جو بینظیر نے مانگی تھی ۔