بعض حلقوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ شملہ معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اس معاہدے میں ہم بھارت کے ساتھ اپنے تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کر چکے ہیں اور اب یہ ایک دو طرفہ معاملہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اب کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 59 کے تحت جب فریقین باہم کوئی نیا معاہدہ کر لیتے ہیں تو پرانا معاہدہ کالعدم سمجھا جاتا ہے۔ یہ موقف درست نہیں ہے۔ اس کے ابلاغ کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ بد نیتی یا جہالت۔آدمی بد نیت بھی نہ ہو اور اسے انٹر نیشنل لاء کی مبادیات سے تھوڑی بہت شناسائی بھی ہو تو اس کے لیے ممکن نہیں وہ اس موقف پر کھڑا ہو سکے۔ شملہ معاہدہ کی دو تعبیرات پیش کی جاتی ہیں۔ ایک پاکستان کا موقف ہے اور دوسرا بھارت کا۔ پاکستان کے موقف کے مطابق شملہ معاہدہ کے باوجود اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی پوری معنویت کے ساتھ موجود ہیں۔ جب کہ بھارت کا کہنا ہے شملہ معاہدے نے ان قراردادوں کو بے معنی کر دیا ہے او راب ان کا کوئی وجود نہیں۔ پاکستان کی بات مان لی جائے تو اس کے نتائج فکر تو ہمیں معلوم ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے بھارت کا موقف مان لیا جائے تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انٹر نیشنل لاء کی روشنی میں بھارتی موقف مان لینے کا نتیجہ یہ ہر گز نہیں ہو گا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں منسوخ سمجھی جائیں گی بلکہ اس صورت میں شملہ معاہدہ کالعدم تصور ہو گااور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پوری قوت کے ساتھ موجود تصور کیا جائے گا۔ یہ ایک دلچسپ پہلو ہے لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے ذرا ایک نظر شملہ معاہدہ پر ڈال لیتے ہیںکہ وہاں لکھا کیا ہوا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ شملہ معاہدے میں لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے مسائل دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے یا کوئی ایسا راستہ اختیار کریں گے جس پر دونوں ممالک رضامند ہوں۔ اسی شق کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی بھی ملک ثالثی تب کر ے گا جب پاکستان اور بھارت دونوں رضامند ہوں گے۔ لیکن کیا اس معاہدے میں اقوام متحدہ کے دائرہ کار کی نفی کی گئی ہے؟ایسا نہیں ہے۔شملہ معاہدہ کی پہلی شق ہی میںلکھ دیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصول و مقاصد دونوں ممالک کے تعلقات کو " govern" کریں گے۔جب یہ بات لکھ دی گئی ہے تو باہمی تنازعات سے اقوام متحدہ کو کیسے الگ کیا جا سکتا ہے؟ جب شملہ معاہدہ میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصول و مقاصد کو بنیادی حیثیت دے دی گئی اور قرار دے دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو یہ چارٹر ہی ’ گوورن‘ کرے گا تو اب ذرا ایک نظر ڈال لیتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا چارٹر کہتا کیا ہے۔ چارٹر کا آرٹیکل 103 انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں کہا گیا کہ اگراس اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ذمہ داریوں اور کسی اور معاہدے کے تحت ذمہ داریوں میں کوئی تنازعہ پیدا ہو جائے تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت عائد ذمہ داریوں کو کسی بھی دوسرے معاہدے پر ترجیح دی جائے گی۔ یہاں ایک چیز بہت اہم ہے۔ آرٹیکل 103میں چارٹر کی شقوں کی بات نہیں کی گئی بلکہ چارٹر کے تحت عائدObligations کی بات کی گئی ہے اور اس میں اقوام متحدہ کی تمام قراردادیں بھی آ تی ہیں ۔ یہ میری رائے نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کی Collective measure committee یہ طے کر چکی ہے کہ آرٹیکل 103 کا اطلاق سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی سفارشات پر بھی ہو گا۔ ساری بحث کا خلاصہ گویا یہ ہوا کہ اگر پاکستان کی تشریح قبول کر لیں تو اقوام متحدہ کی قراردادیں پوری طرح موجود ہیں اور ان کی روشنی میں ہی معاملہ ہونا چاہیے۔ اور اگر بھارت کی تشریح قبول کر لیں کہ شملہ معاہدے نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کوبے معنی کر دیا ہے تو اس صورت میں چارٹر کے آرٹیکل 103 کے تحت شملہ معاہدے کی متعلقہ شق غیر اہم ہو جائے گی اور اقوام متحدہ کی قرارداووں کو فوقیت حاصل ہو گی۔دونوں صورتوں میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہاں ایک اور پہلو بھی بہت اہم ہے۔ شملہ معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت ان تنازعات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے پر رضامند ہوئے تھے جو ان کے باہمی تنازعات ہیں۔کشمیر کی نوعیت مختلف ہے۔ تقسیم کے مینڈیٹ کے تحت بلاشبہ ان کے پاس دو ہی آپشن ہیں کہ بھارت کے ساتھ مل جائیں یا پاکستان کے ساتھ لیکن انہوں نے کس کے ساتھ ملنا ہے اس کا فیصلہ تو کشمیرکے لوگوں ہی کو کرنا ہے۔ اب جس چیز کا فیصلہ کشمیریوں نے کرنا ہے اس کے بارے میں کوئی معاہدہ انہیں شامل کیے بغیر کیسے ہو سکتا ہے۔ شملہ معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ کوئی بھی فریق صورت حال کو یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کرے گا۔ بھارت نے کشمیر میں ان دنوں جو کچھ کیا ہے کیا وہ شملہ معاہدے کے مطابق ہے؟ یہ کیسی فکری بد دیانتی ہے کہ ایک طرف شملہ معاہدے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو بنیادی اہمیت دیے جانے کے باوجود کہا جائے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی اور دوسری جانب اس کی واضح شق کی نفی کرتے ہوئے کشمیر کی صورت حال کو یکطرفہ طور پر تبدیل کردیا جائے۔ پھر بھی اگر کو ضد ہو کہ شملہ معاہدہ کے بعد اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی تو اسے ویانا کنونشن آن دی لاء آف ٹریٹیز کے آرٹیکل 53 کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔اس میں لکھا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ انٹر نیشنل لاء کے بنیادی معیارات سے متصادم ہو اس معاہدے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔گویا بھارت کی بات مان لی جائے کہ شملہ معاہدہ کے بعد اب حق خودارادیت کی قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں تو اس صورت میں شملہ معاہدہ خود کالعدم تصور ہو گا۔