پولیس کے جگہ جگہ ناکوں اور گشت کے باوجود پنجاب کے دارالحکومت میں ڈاکو راج بدستور قائم ہے۔دندناتے ڈاکوئوں نے مزاحمت پر دو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جوں جوں عیدالفطر قریب آتی جا رہی ہے ملک بھر میں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکو گردی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پولیس کا وجود ہی نہیں ہے۔ خصوصاً اے ٹی ایمز کے باہر ایسی وارداتیں روز کا معمول بن چکی ہیں لیکن پولیس ایسے حساس مقامات پر سکیورٹی بڑھا رہی ہے نہ ہی شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ چند روز قبل لاہور میں ایک خاتون پروفیسر کے ساتھ ایسا ہی واقعہ رونما ہوا جبکہ ملک بھر میں ڈکیتیوں اور چوریوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ چاروں صوبوں کے آئی جی صاحبان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اس وقت پولیس چوکوں اور چوراہوں پر نہ صرف ناکے لگائے کھڑی ہے بلکہ سڑکوں پر مٹر گشت کرتی بھی نظر آتی ہے اس کے باوجود ڈاکوئوں کا یوں دندناتے پھرنا اور سرعام شہریوں کو لوٹ مار کر فرار ہو جانا عجب صورتحال ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کو اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو عوام کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کے اقدامات بارے احکامات جاری کرنے چاہیں تاکہ عوام امن و سکون کے ساتھ عیدالفطر کی خوشیاں منا سکیں۔ چاروں وزراء اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ کو بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیں تاکہ عوم کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے جا سکے۔