پنجاب حکومت کی جانب سے کینسر کی مختلف اقسام کے شکار مریض مفت ادویات کی فراہمی بند ہونے پر پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج اور دھرنا دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ آئین تمام شہریوں کو مفت تعلیم اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین وزیر اعظم عمران خان بھی ملکی وسائل کو انسانوں کی بہبود پر خرچ کرنے کے داعی رہے ہیں مگر بدقسمتی سے جب سے عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں تب سے ہی صحت کا شعبہ بری طرح نظرانداز ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے پہلے سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹری ٹیسٹوں کی فیسوں میں کئی گنا اضافہ کر کے مریضوں کے لیے مشکلات بڑھا دیں پھربورڈ آف گورنر بنا کرہسپتال نجی شعبہ کے سپرد کرنے کا آرڈیننس جاری کر کے میڈیکل سٹاف میں خوف پیدا کرکے انہیں احتجاج اور ہڑتالوں پر مجبور کیا۔ پنجاب حکومت کی اس سے بڑھ کر نااہلی اور صحت کے شعبہ بارے عدم دلچسپی اور کیا ہو سکتی ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے والا شیخ زید ہسپتال حکومتی پالیسیوں کے سبب بحران کا شکار ہے۔ اب پنجاب حکومت نے کینسر ایسے موذی اور اذیت ناک مرض کی ادویات بند کرکے کینسر کے مریضوں کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور کر دیا ہے ،جو غریب مریضوں کے ساتھ ظلم سے کم نہیں۔ بہتر ہو گا وزیراعظم اس معاملہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے خصوصی توجہ دیں اور ایسے عوام دشمن فیصلے کرنے والی افسر شاہی کا کڑا احتساب بھی کریں تاکہ مستقبل میںغریب مریضوں کو بے بسی کی موت مرنے سے بچایا جا سکے۔