لندن(نیٹ نیوز) سائنسدانوں نے پیدائش کے وقت ایک ایسا انقلابی ڈی این اے ٹیسٹ کیا ہے جس کی مدد سے لاکھوں لوگ کینسر اور دوسری جان لیوا امراض سے بچ سکیں گے ۔برطانوی ماہرین طب نے بتایا ہے کہ انہوں نے رضاکاروں پر ایک لاکھ ’’ہول جینومک سیکوئنسنگ‘‘ ٹیسٹ کیا ہے ۔50 لاکھ برطانوی شہریوں کا جینٹک ڈیٹا رسولیاں کے علاج، ان پر سرجری اور کیموتھراپی کے اثرات کے حوالے سے پیش گوئی کیلئے معاون ہوگا۔وہ ٹیسٹ جس کی قیمت 500 برطانوی پائونڈ ہے ، کینسر کے خدشات سے آگاہ کرے گا اور کینسر کے خطرے سے دوچار افراد اپنی خوراک بدل سکیں گے اور دوائی استعمال کرسکیں گے تاکہ وہ بیماری سے بچ سکیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ مستقبل میں ایک معمول بن جائے گا اور پیدائش کے موقع پر پریک ٹیسٹ کی جگہ لے گا۔برطانوی وزیرصحت نے کہا ہے کہ 50 لاکھ برطانوی شہریوں کا ڈی این اے ٹیسٹ آئندہ پانچ سال میں مکمل کیا جائے گا۔