قتل کرنا ہے ہمیں اور وہ قاتل بھی نہیں بے حسی وہ ہے کہ ہم رحم کے قابل بھی نہیں کسی کردار کو چلنے نہیں دیتا آگے ایک کردار کہانی میں جو شامل بھی نہیں وہ کردار اب تو بالکل عیاں ہو چکا۔دجل باطل قوتوں کے ساتھ حق کے خلاف برسر پیکار ہے۔حق و باطل کے مابین لکیر کھینچ چکی اور یہاں جو اب تاویلیں کریں گے مگر ظلم و بربریت ڈھٹائی اور بے شرمی کی ساری حدیں پار کر کے اسرائیل فلسطینیوں کو ننھے منے بچوں سمیت خون میں نہلا رہاہے۔ بے چارے نہتے مسلمانوں کے لئے سلامتی کونسل کے پاس بھی سلامتی نہیں۔ امریکہ نے اس کے اعلامیہ کو روک دیا ہے، بدمعاشی اور غنڈہ گردی سارے پردے اتار کر دندنا رہی ہے۔ حفیظ جالندھری نے کہا تھا: دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی مگر اپنے ہمارے دوست بھی کہاں ہیں۔ عام پوسٹیں لگ رہی ہیں کہ فلسطین کے مجبور و مقہور مسلمان ملکوں کی طرف ہرگز نہیں دیکھ رہے ۔دوسری بات یہ کہ سعودیہ کی خواہش اور راحیل شریف کی کمان میں بننے والی مسلم فوج کہاں ہے ۔ کیا ہم سب مل کر صرف ا اسرائیل کے خلاف بددعائیں کر رہے ہیں ۔ اس پر کسی کو بھی ذرہ بھر یقین نہیں کہ اس راکھ سے کوئی چنگاری پیدا ہو گی۔ این خیال است و محال است و جنوں‘ غلامان امریکہ امت پر وبال ہیں۔ایک ترکی ہے جو آواز بلند کر رہا ہے۔ کچھ رجائیت پسند یقینا پاکستان اور ایران کے سامنے ہاتھ جوڑ رہے ہیں کہ دونوں ترکی کے ساتھ مل کر کوئی فیصلہ کریں: ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے غیر سے تجھ کو محبت ہی سہی یہ پوری انسانیت کا امتحان ہے، وہ انسانیت جو اس وقت شیطانیت کے قبضے میں ہے۔ طاغوتی طاقتیں پوری طرح آکٹوپس کی طرح سب کو جکڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور یورپ ہی نہیں پوری دنیا کے ممالک جن میں غیر مسلم بھی شامل ہیں، احتجاج کر رہے ہیں۔مگر ہمارا معاملہ تو مصطفویؐ والا ہے ہم اگر اپنے بھائیوں کے لئے نہیں اٹھتے تو پھر قاتلوں کے ساتھ ہیں مجرم اور اللہ کے باغی: خود کو زندہ سمجھ رہے ہیں ہم ہائے کس درجہ خوش گمانی ہے اسرائیل سے پیار کی پینگیں بڑھانے والے اب کہاں ہیں۔ وہ مسلم امہ کے غدار ہیں ساری دنیا پر عیاں ہو چکا کہ امریکہ کے ایجنڈے ہے کہ اسرائیل ایک ایک کر کے سب کو ختم کرے گا۔سیدھی سیدھی نسل کشی ہو رہی ہے۔ کچھ ہمارے معصوم سچ مچ یہ سمجھتے ہیں کہ حماس نے بھی اسرائیل پر حملہ کیا ہیتو وہ سن لیں کہ سراسر پراپیگنڈا ہے۔عین گمان یہی ہے کہ خود ہی اسرائیلیوں نے غزہ سے خود پر راکٹ فائر کروائے۔ وگرنہ غزہ تو لینڈ لاک ہیں یہ جدید میزائل کہاں سے آئے۔ دوسری دلیل یہ کہ ہمارے سامنے ٹون ٹاور یعنی نائن الیون کا واقعہ سامنے ہے کہ وہ ایک بڑا ڈرامہ تھا جب چار صد یہودی چھٹی پر تھے۔ اس کے بعد صدام حسین کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیمیکل بموں کا اور اس سے بھی بڑھ کر صدام کو طاقتور دکھا کر میڈیا نے امریکہ کے لئے رستہ صاف کیا اور پھر پانچ ہزار بچے بھی مار دیے گئے۔ اللہ کی زمین پر دجالی تباہی ،مدافعت کا تصور بھی گھڑا جا رہا ہے اور نہتے فلسطینی شہید ہو رہے ہیں۔ غزہ کی ایک ماں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھتی ہیں کہ اکٹھے مر سکیں۔ہائے یہ امریکی اور اسرائیلی ہلاکو خاں اور چنگیز خاں کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ان کے سینوں میں دل نہیں سل ہے اور ہمارے حکمرانوں کو تو بے حسی نے پتھر بنا رکھا ہے: جاہ و جلال و دام و درم اور کتنی دیر ریگ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر شرم آتی ہے ستاون مسلمان ملکوں کا رویہ دیکھ کر۔ان سے تو کوے اچھے ہیں جو کائیں کائیں کر کے اپنے غم کا اظہار تو کرتے ہیں۔اپنے اپنے مفادات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے۔ کیا انہیںا اپنے رب پر یقین ہی نہیں۔اسی وہن کی بیماری میں مبتلا وہی وہن کی بیماری جس کا تذکرہ آقا ﷺ نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ساری کفار طاقتیں مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں گے۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ کیا مسلمانوں کی تعداد کم ہو گی۔ اس پر نبیؐ مہرباں نے کہا کہ بہت زیادہ ہو گی مگر انہیں وہن یعنی خوف کی بیماری لاحق ہو گی۔ دنیا سے محبت ہو گی۔یہ اہل دہر ہیں۔ابھی ایک پوسٹ فاطمہ قمر کی نظر سے گزری کہ اب سمجھ آ جانی چاہئے سلیبس سے جہادکی آئتیں کیوں نکلوا ئی جا رہی ہیں۔ ایک دس بارہ سالہ فلسطینی بچی کی ویڈیو دیکھی تو آنکھ بھر آئی۔ وہ کہتی ہے کہ کیا صرف اس لئے انہیں مارا جا رہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے مگر سب کچھ تو اس کے سامنے برباد کیا جا رہا ہے۔ وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ انہیں کس جرم میں مارا جا رہا ہے!ساتھ ہی ان جرأت مند عورتوں کی بات بھی گونجی کہ وہ ہار نہیں مانیں گی۔ وہ اپنے گھر بار نہیں چھوڑیں گی۔ اصل مسئلہ بھی یہی ہے کہ اسرائیل ان بے سروسامان لوگوں کو غزہ سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے اور یہودیوں کو آباد کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات سب کی سمجھ میں آ رہی ہے۔ ایک طرف اسلام دشمن مجرمانہ خاموشی اوڑھے ہوئے ہیں اور کچھ بے حسی کے ساتھ کھڑے ہیں جیسے فرانس۔وقت آ چکا ہے کہ اگر ہم اپنے دفاع کے لئے نہ نکلے تو ہمیں ہمارے گھروں ہی میں مار دیا جائے گا۔ یہ بالکل بھی غلط نہیں کہ ہم پر کروسیڈ مسلط کر دی گئی ہے۔ کیا ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔ ہماری رگوں میں تو آسائشوں کا زہر اتار دیا گیا ہے۔ توکل تو کرنا پڑے گا۔فیض صاحب کے شعر پر بات ختم کرتے ہیں: جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں