لاہور(رپورٹ: قاضی ندیم اقبال) ایڈمنسٹریٹرز مارکیٹ کمیٹیوں کی طرف سے ذمہ داریوں سے غفلت کامظاہرہ کیا اور 146اسسٹنٹ کمشنرز کو مہنگائی کے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ،پنجاب حکومت نے کارکردگی رپورٹ طلب کرلی۔ مارکیٹ کمیٹیوں کے 146 ایڈمنسٹریٹرز اور ان کے سیکرٹریز کی فرائض میں غفلت عوام کی مصیبتوں میں اضافے کا سبب بنی،حکومت پنجاب نے ڈپٹی کمشنرز سے 146 اسسٹنٹ کمشنرز کی بابت رپورٹس طلب کر لیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اے سیز کے مستقبل کا فیصلہ ایوان وزیر اعلیٰ سے ہو گا۔ ذرائع کے مطابق مختلف حوالوں سے سامنے آنے والی رپورٹس میں صوبہ میں مہنگائی کا جن بے قابو کرنے اور اشیائے خوردونوش میں مصنوعی اضافہ کا سبب مارکیٹ کمیٹیوں کے ذمہ داران کوقرار دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے جولائی 2018میں اسسٹنٹ کمشنرز کو صوبہ بھر کی مارکیٹ کمیٹیوں کے ایڈمنسٹریٹرز کی اضافہ ذمہ داریاں سونپی تھیں اور ہدایت کی گئی کہ ایڈمنسٹریٹرز نیلامی کی کارروائی کو مانیٹر کرنے اور ہفتہ میں کم و بیش 3روز مارکیٹ کمیٹیوں کا دورہ کریں گے ۔ذرائع کے مطابق بیشتر اسسٹنٹ کمشنرز نے اضافی ذمہ داریوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ اس غفلت کے باعث مارکیٹ کمیٹیوں کے سیکرٹریز بھی صحیح طریقے سے فرائض سر انجام نہیں دے رہے ۔ذرائع نے بتایا کہ چیف سیکرٹری پنجاب نے تمام ڈپٹی کمشنرزکو ہدایت کی ہے کہ و ہ اسسٹنٹ کمشنرز کی مارکیٹ کمیٹیوں کے ایڈمنسٹریٹرز کے طور پر کارکردگی کو مانیٹر کرتے ہوئے ان کی رپورٹس روزانہ کی بنیاد پر صوبائی حکومت کو ارسال کریں۔ مذکورہ رپورٹس کی روشنی میں ڈلیورنہ کرنے والے اسسٹنٹ کمشنرز/ایڈمنسٹریٹرز کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کی جائے گی ۔عوامی مفادکے پیش نظر5صوبائی اداروں زراعت، خوراک، انڈسٹریز، داخلہ، اوربلدیات کو اشیائے خوردونوش کی طلب اور رسد کو مدنظر رکھتے ہوئے سپلائی کو یقینی بنائے رکھنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں ۔ اس حوالے سے بھی رپورٹ آئی اینڈ سی ونگ ایس اینڈ جی اے ڈی کو ارسال کیا کریں ۔