خیبر پختونخواہ میں فنڈز نہ ہونے کے باوجود ضلع سوات کے علاقے کالام سے ضلع لوئر دیر کے علاقے چکدر ہ تک 120کلومیٹر لمبی بجلی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لیے ٹھیکیدار کا چنائو کر لیا گیاہے ۔منصوبے کی تکمیل پر 30ارب سے زائد خرچ آئے گا ۔صوبہ خیبر پی کی سر زمین قدرتی ایسی ہے کہ وہاں قدم قدم پر جھیلیں موجود ہیں ۔جن پر کام کر کے پن بجلی کے سستے منصوبے لگائے جا سکتے ہیں ۔مگر بدقسمتی کے ساتھ حکمران اتحاد نے ماضی میں پاور پلانٹس مافیا کے ساتھ معاہدے کر کے عوام کو مہنگی بجلی کی جانب دھکیلا ہے ۔ خیبر پی کے جبوری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مانسہرہ سے سالانہ 71.1 گیگا واٹ توانائی متوقع ہے ۔ ضلع شانگلہ کے کاروڑا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ر منصوبے سے سالانہ 71.39 گیگا واٹ آور ۔ 40 میگا واٹ کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دیر لوئر سے سالانہ 205 گیگا واٹ ۔ گورکن مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سالانہ 346 گیگا واٹ۔157 میگاواٹ مدین اور 88 میگا واٹ گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے۔ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے سالانہ 1143 گیگا واٹ آورجبکہ 2029 تک صرف سوات میں 1035میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی ۔اب حکومت نے سوات اور کالام کے چھوٹے منصوبوں کو لنک کرنے کے لیے 120کلومیٹر ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آئند ہے ،اس سے نہ صرف صوبے کی ضرورت پوری ہو گی بلکہ عوام کو 24گھنٹے بجلی بھی دستیاب ہو گی ۔ حکومت ان منصوبوں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی طرز پر ملک بھر میں یکساں بجلی کے ریٹ مقرر کرے ۔