اسلام آباد (لیڈی رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف الیون فور میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے باوجود قبضہ نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ۔ عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ عدالت میں پیش ہو کر جواب دیں کہ قبضہ کیوں نہیں دیا ، الاٹمنٹ سی ڈی اے نے کی ہے تو قبضہ بھی وہی دے گا۔ فاضل جسٹس نے بھیکہ سیداں کے متاثرین کی جانب سے پیکج ڈیل کی بحالی اور مکمل حقوق ملنے تک حکم امتناع کی استدعا مسترد کر دی ہے ۔ گزشتہ روز سماعت کے موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ جو الاٹمنٹ کی ہے ان لوگوں کو قبضہ کیوں نہیں دے رہے جس پر سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ موقع پر گاؤں موجود ہے اس لئے قبضہ ممکن نہیں ہے ۔ اس پر فاضل جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ گائوں گرائیں یا جو مرضی کریں، قبضہ تو دینا پڑے گا، ایکوائرڈ زمین پر لوگ کیسے قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔ فاضل جسٹس نے سی ڈی اے کو ایف الیون قبرستان سے تجاوزارت ختم کرا کے رپورٹ عدالت جمع کرانے کا حکم بھی دیا ہے ۔بعد ازاں عدالت نے سماعت 26 جون تک ملتوی کر دی۔