مکرمی ! پاکستان میں غربت کی شرح تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ حکام بالا فقط اپنی عیش و عشرت میں مگن ہیں اور ایک غریب غربت کی چکی میں پستا چلا جارہا ہے۔ اس غربت سے پیدا ہونے والی ایک انتہائی شرمناک ناسور بیماری گداگری ہے۔ کوئی سڑک، کوئی ٹریفک اشارہ، کوئی بازار، کوئی چوک، کوئی گلی ایسی نہیں کہ جہاں پر آپ کو بھکاری بھیک مانگتے نظر نہ آئیں۔ اشاروں پر خواجہ سراؤوں کا روپ دھارے افراد ہر گاڑی کے شیشے کھٹکھٹا کر بھیک مانگتے ہیں۔ اگر کوئی نہ دے تو اس پر بد دعائیں شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اس کا ایک بھیانک روپ یہ بھی ہے کہ گداگری نے ایک پیشے کی صورت دھار لی ہے۔ ضرورت مندوں کے ساتھ ساتھ تندرست لوگوں نے بھی مانگنا شروع کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ مصنوعی آپریشن کروا کر اپنا کوئی جسمانی عضو ضائع کر کے لوگ بھیک مانگنا شروع ہو گئے ہیں۔یہاں تو اب باقاعدہ گینگ (گروہ) تشکیل ہو چکے ہیں جو بچوں کو اغوا کر کے زبردستی ان سے بھیک منگوا رہے ہیں جس کی وجہ سے حقیقی ضرورت مند امداد کے حصول سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامِ حیرت یہ ہے کہ یہ سب سرِ عام ہو رہا ہے۔ ناجانے حکام بالا، ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیا ںکون سی ڈوز لے کر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ (محمد طیب نوید کراچی)