ائیر کنڈ یشننگ سے بڑھتے ہوے ما حولیاتی  چیلنجنزپر ایک چشم کشا رپورٹ

رانا محمد آصف 

یہ ایک ماہ پہلے کی بات ہے۔ منگل کا دن تھا اور نیویارک کے شہری محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق سال کے گرم ترین ہفتے کے لیے تیاری کررہے تھے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے شہر میں شدید گرمی کی لہر کے دوران بجلی کا ریکارڈ استعمال ہورہا ہے اور بیک وقت بری تعداد میں اے سی چلنے کی وجہ سے بجلی کے نظام پر دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔ نیو یارک میں مختلف نجی کمپنیاں بجلی فراہم کرتی ہیں، نیویار کے ایک کروڑ صارفین کو کون ایڈیسن نامی کمپنی بجلی کی ترسیل کرتی ہے اور گرم  موسم کی آمد سے قبل ہی اس کمپنی کے خصوصی  ایمرجنسی کمانڈ سینٹر میں یکدم بڑھنے والی طلب سے متعلق صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں بلائے گئے ایک اجلاس میں  80انجینیئر ، شہر کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے محکمے کے نمائندے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کی نگرانی کرنے والا عملہ بھی اس اجلاس میں شریک ہے۔ ان کے سامنے اعداد و شمار ہیں۔ کون ایڈیسن کمپنی کے 62پاؤر سب اسٹیشن ہیں، بجلی کی ترسیل کے لیے  ایک لاکھ تیس ہزار مربع میل کے علاقے میں اس کی لائنز اور کیبلز بچھی ہوئی ہیں اور یہ سسٹم ہر سیکنڈ 13ہزار چارسو میگا واٹ بجلی فراہم کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ عام حالات میں نیویارک شہر کی بجلی کی طلب 10ہزار میگا واٹ فی سیکنڈ ہوتی ہے لیکن  گرمی کی شدید لہر کے دوران یہ بڑھ کر 13ہزار میگا واٹ تک چلی جاتی ہے اور یہ اضافہ صرف ایئر کنڈیشن کے استعمال سے ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے سسٹم پر دباؤ بڑھ جانے سے بجلی کی فراہمی کا نظام متاثر ہوچکا ہے۔ 2006میں کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند ہوگئی تھی جس سے پونے دولاکھ  لوگ متاثر ہوئے اور ہیٹ ویوو سے 40افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ایسی صورت حال دیگر شہروں میں بھی پیش آچکی ہے۔ بعض شہروں میں  گرمی سے پیدا ہونے والے مشکلات کو کم کرنے کے لیے پولیس کی مدد سے شہرویوں کے گھروں میں پولیس کی مدد سے ڈرائے آئس بھی فراہم کی گئی۔ 

 دنیا میں بھر میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت ایک چلینج بنتا جارہا ہے اور ترقی یافتہ ملکوں کے بڑے شہروں میں بھی بجلی کی فراہمی میں تعطل جیسے واقعات ہورہے ہیں۔ عام شہریوں کے لیے بڑھتی ہوئی گرمی سے چھٹکارے کے لیے ایئر کنڈیشن کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ایئر کنڈیشنر چار فریج جتنی بجلی صرف کرتا ہے اور اگر ایک گھر کے لیے سینٹرلائزڈ اے سی سسٹم ہو تو اس پر 16فریج کے برابر بجلی خرچ ہوتی ہے۔  بین الاقوامی توانائی کمیشن(آئی ای اے) کے مطابق گزشتہ برس ہیٹ ویو کے دوران بیجنگ میں پیدا ہونے والی بجلی کا پچاس فیصد ایئر کنڈیشننگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس میں کئی مرتبہ تعطل بھی پیدا ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں صرف ایک کمرے میں لگائے گئے ایئرکنڈیشننگ یونٹس کی تعداد ایک ارب تک پہنچ چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ دنیا کا ہر ساتواں فرد اے سی استعمال کررہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 2050تک یہ تعداد بڑھ کر  ساڑھے 4ارب تک پہنچ جائے گی اور ماہرین کے مطابق ایک وقت آئے گا جب اے سی بی موبائل فون کی طرح عام ہوجائے گا۔ امریکا میں ایئر کنڈیشننگ کے لیے استعمال ہونے والی بجلی برطانیہ کی کل  بجلی کی پیدوار کے برابر ہوچکی ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق  دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اے سی کے استعمال سے بجلی کی طلب اس سطح پر پہنچ سکتی ہے۔ آئی ای ے کے مطابق  دنیا میں پیدا ہونی والی بجلی کا  13فی صد ایئر کنڈیشننگ کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں 2ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی تمام ہی رپورٹس میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جیسے جیسے درجہ حرارت زیادہ ہوتا جائے گا، اسی اعتبار سے ایئر کنڈیشننگ بھی بڑھتی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عجیب سائیکل بن جائے گا کیوں کہ زیادہ گرمی سے بچاؤ کے لیے لوگ ایئرکنڈیشن کا استعمال بڑھائیں گے اور ایئر کنڈیشن کے زیادہ استعمال سے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہی صورت حال ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل میں پیش آرہی ہیں، ان سے مقابلے کے لیے جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں، بالآخر کہیں نہ کہیں ان کے نتیجے میں یہ مسائل مزید شدید ہو جاتے ہیں۔ 

لیکن دوسری جانب ایئرکنڈیشننگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو تبدیل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ زیادہ پرانی بات نہیں، 1990میں دنیا میں صرف 40کروڑ ایئر کنڈیشننگ یونٹس تھے، جن میں سے زیادہ تر امریکا میں استعمال ہورہے تھے۔ بنیادی طور پر ایئر کنڈیشننگ صنعتی استعمال کے لیے بنی تھی لیکن رفتہ رفتہ یہ جدت اور سہولت کی علامت بنتی گئی اور عالمی سطح پر اس کا رواج ہوتا گیا۔ اس قدر تیزی سے اس کا استعمال کیوں بڑھا، اس کے بارے میں کچھ حقائق جاننا ضروری ہیں۔ 

کہا جاتا ہے کہ جس طرح آٹوموبیل یا گاڑیوں کے ایجاد نے دنیا کو تبدیل کرکے رکھ دیا اسی طرح ایئرکنڈیشننگ کے بعد دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔ سنگا پور کے پہلے وزیر اعظم لی کون یو نے کہا تھا کہ اس کی ایجاد نے گرم ممالک کی زندگی کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا۔ 1998میں امریکی ماہر رچرڈ ناتھن نے ایک جریدے کو اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ شہری حقوق کی تحریک کے بعد ایئرکنڈیشننگ کی ایجاد وہ دوسرا واقعہ ہے جس نے امریکا کی سیاست اور آبادی کے بنیادی حقائق میں انقلاب برپا کردیا۔ اس ایجاد کے نتیجے میں امریکا کے دور دراز اور انتہائی گرم علاقوں میں آباد کاری ممکن ہوئی۔ 

ایک صدی پہلے چند ہی لوگ اس تبدیلی کو محسوس کرسکتے تھے۔ 50برس قبل ایئرکنڈیشننگ صرف کارخانوں، فیکٹریوں اور چند عوامی مقامات تک محدود تھی۔ اس کی ایجاد ولیس کرئیر نے کی تھی جو ایک امریکی انجینیئر تھے اور 1902میں بروکلین پرنٹنگ پریس میں ماحول میں نمی کو کم کرنے کے لیے مختلف تجربے کررہے تھے۔ آج ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایئرکنڈیشننگ کا مقصد گرمی کو کم کرنا ہے لیکن ابتدا میں اس پر کام کرنے والے ماہرین کا واحد مقصد یہ نہیں تھا۔ ان کے پیش نظر پرنٹننگ پریس کے ماحول میں نمی کے تناسب کو ایک خاص سطح پر رکھنا تھا کیوں کہ نمی کے باعث کاغذ کی شیٹس مڑ جایا کرتی تھیں اور اس کے علاوہ چھپائی کے دوران ان پر روشنائی بھی پھیل جایا کرتی تھی۔ 

کرئیر نے مشاہدہ کیا کہ اگر فیکٹری میں درجہ حرارت کو کم کردیا جائے تو اس کے نتیجے میں ماحول میں نمی بھی کم ہوجائے گی۔ اس وقت تک فریج ایجاد ہوچکا تھا اور کرئیر نے ابتدائی طور پر اسی صنعت کے لوگوں سے مدد لی۔ ایئر کنڈیشننگ یونٹ بنایا گیا جو گرم ہوا کھینچتا تھا اور اسے ٹھنڈا کردیتا تھا، لیکن یہ ہوا خشک ہوتی تھی۔ اس ایجاد کو صنعتوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ٹیکسٹائل، ہتھیار سازی، دوا سازی وغیرہ کی فیکٹریوں میں سب سے پہلے اس کا استعمال کیا گیا اور اس کے بعد ہی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا۔ امریکا کے ایوان نمائندگان میں 1928میں ایئر کنڈیشننگ کا نظام نصب کیا  گیا اور اس کے ایک برس بعد امریکی وہائٹ ہاؤس اور سینیٹ میں بھی ایئرکنڈیشننگ کی سہولت فراہم کردی گئی۔ اس عرصے میں عام شہریوں کو صرف تھیٹر، بڑے ڈپارٹمنٹ اسٹورز وغیرہ ہی میں یہ سہولت میسر آتی تھی اسے  ایک انوکھی شے سمجھا جاتا تھا۔1940کی دہائی میں یہ ایئرکنڈیشننگ گھروں میں داخل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے امریکا پر اس کا راج ہوگیا۔ مؤرخ گیل کوپر کے مطابق اس وقت تک ایئر کنڈیشننگ کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو لوگوں کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ ایئر کنڈیشننگ کوئی تعیش نہیں بلکہ ان کی ضرورت ہے۔ ابتدا میں لوگوں نے فوری طور پر یہ بات قبول نہیں کی اور 1938تک امریکا کے 4سو گھروں میں سے کسی ایک میں ایئر کنڈیشننگ ہوا کرتی تھی اور آج یہ دس میں سے نو گھروں میں موجود ہے۔

ایئر کنڈیشنر کی اس مقبولیت کی وجہ اس کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث نہیں ہوئی، بلکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا کی تعمیراتی صنعت کو ملنے والا عروج اس کا سبب بنا۔ 1946سے 1965کے مابین امریکا میں 31لاکھ نئے مکانات بنائے گئے۔ اس صنعت سے وابستہ افراد نے ایئر کنڈیشننگ کو ایک نعمت کے طور پر پیش کیا۔ انھیں اس میں یہ بھی فائدہ تھا کہ مختلف موسم اور درجہ حرارت رکھنے والی ریاستوں میں انھیں مختلف ڈیزائن تیار نہیں کروانا پڑے بلکہ ہوا کو ٹھنڈا کرنے والی اس ایجاد نے انہیں کم اور زیادہ درجہ حرارت رکھنے والے خطوں میں یکساں طرز تعمیر اپنانے کی راہ دکھائی۔ امریکا کے انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکچر کے مطابق سٹی پلاننگ سے لے کر طرز تعمیر پر  ایئر کنڈیشننگ کے بے محابا استعمال نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس سہولت کو پہلے تعیمراتی صنعت اور بینکاروں نے قبول کیا اور عوام کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا پڑا۔ ایئر کنڈیشننگ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بجلی کی طلب کو بھی بڑھانا شروع کردیا اور بجلی پیدا کرنے اور ان کی ترسیل کرنے والی کمپنیوں کے لیے بے حد و حساب نئے مواقع پیدا ہوئے۔ بجلی کے گھریلو اور صنعتی سطح پر استعمال سے یہ صنعت بہت جلد انتہائی منافع بخش ہوچکی تھی لیکن ان کمپنیوں کی خواہش تھی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ بجلی استعمال کریں۔ 20ویں صدی کے آغاز میں ان کمپنیوں نے اس ہدف کو حاصل کرنے پر کام شروع کردیا تھا۔ ابتدا میں اسے ’’لوڈ بلڈنگ‘‘ کہا گیا۔ بجلی پر آنے والی لاگت تو کم تھی لیکن اسے بنیادی ضرورت بنانے کی وجہ سے اس کی بڑھتی ہوئی طلب نے اس صنعت کو چند برسوں ہی میں تیزی سے پھیلانا شروع کردیا۔ 

ان کمپنیوں نے جلد ہی اندازہ کرلیا کہ ایئر کنڈیشننگ ’’لوڈ بلڈنگ‘‘ میں تیزی سے اضافہ لاسکتی ہے۔ 1935ہی میں معلوم کرلیا گیا تھا کہ ایئر کنڈیشننگ سے بجلی کی طلب میں سالانہ 50فی صد اضافہ ہوسکتا ہے۔ 1950کی دہائی میں ان کمپنیوں نے ایئر کنڈیشننگ کے فروغ کے لیے بھاری سرمایہ کاری سے اشتہارات چلوائے۔ اس کے علاوہ ایئرکنڈیشننگ کی خدمات کی کمپنیاں بنانے کے لیے آسان قسطوں پر قرضے فراہم کرنا شروع کیے۔ 1970تک امریکا کے 35فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشننگ کی سہولت موجود تھی جو صرف تیس برس قبل کے مقابلے میں 200گنا زائد تھی۔ اس کے بعد امریکا میں فلک بوس کمرشل عمارتوں کے جنگل اگنا شروع ہوئے، اور ان کی دیواروں میں بڑے بڑے شیشے لگائے جانے لگے۔ ایئر کنڈیشننگ اس طرز تعمیر کا لازمہ تھی۔ 1950سے  1970کے بیس برسوں میں کمرشل عمارتوں کی فی مربع فٹ بجلی کے استعمال میں دو گنا اضافہ ہوگیا۔ 1974میں جب نیو یارک کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر تعمیر ہوا تو یہ دنیا کا سب سے بڑا اے سی یونٹ تھا۔ اس میں نو بہت بڑے بڑے انجن نصب تھے، کولنگ اور ہیٹنگ کے لیے اس میں 270کلومیٹر پائپ استعمال کیا گیا۔  اس وقت اس عمارت کی بجلی کا استعمال  80ہزار آبادی رکھنے والے ایک شہر کے برابر تھا۔ ایئر کنڈیشننگ، تعمیرات اور بجلی کی فراہمی کرنے والی صنعتوں نے مل کر دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا میں سرمایہ داری نظام کو غیر معمولی عروج بخشا۔ منافع اندوزی کے لیے اس صنعت نے اے سی کو امریکی زندگی کا جزو لازم بنا دیا 2009تک امریکا کے 87فی صد گھروں میں اس کا استعمال شروع ہوگیا۔ 1992میں ایک برطانوی جریدے نے اس پر اس انداز میں تبصرہ کیا ’’اب امریکی کھانے سے قبل جو دعا کرتے ہیں وہ کچھ یوں ہوتی ہے کہ ہمارے گھر ٹھنڈے رہیں، ہماری رقابیاں کھانے سے بھری رہیں اور پیٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی گیلن پر رکی رہے۔ امین‘‘ 

رفتہ رفتہ ایئر کنڈیشننگ کا رواج امریکا سے نکل کے پوری دنیا تک پھیلتا گیا۔ عالمگیریت کے تصور نے دنیا کے طرز زندگی کو امیریکنائز کرنا شروع کیا تو ایئر کندیشننگ بھی تیزی سے رواج پاتی گئی۔ نوے کی دہائی میں ایشیا کے ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع میسر آنا شروع ہوئے اور شہری تعمیرات میں اس قدر تیزی سے اضافہ ہوا، جس کی اس سے قبل مثال  نہیں ملتی۔ آبادی تیزی سے شہروں کی جانب منتقل ہونے لگی۔ گزشتہ تین دہائیوں میں بھارت کی 20کروڑ آبادی شہروں میں منتقل ہوئی چین میں یہ تعداد پچاس کروڑ سے بھی زائد ہے۔ دہلی سے شنگھائی تک ایئر کنڈیشنڈ دفاتر، ہوٹل اور شاپنگ مالز کے جنگل اگنا شروع ہوگئے۔ یہ عمارتیں  نہ صرف نیو یارک اور لندن کی عمارتوں سے بے پناہ مماثلت رکھتی تھیں بلکہ ان میں سے اکثر کی تعمیر بھی ایک ہی بلڈر یا ماہر تعمیرات نے کی تھی۔ اسی وجہ سے رفتہ رفتہ پوری دنیا میں روایتی طرز تعمیر متروک ہوتا گیا۔ یہ روایتی طرز تعمیر اس خطے کے ماحول سے ہم آہنگ ہوتا تھا، اس میں چھتوں کی اونچائی، کھڑکیاں ، روشن دان، دروازے اور جھروکے موسمی اثرات کو زائل کرنے کے لیے ہی ڈیزائن کیے گئے تھے لیکن پھر ایک ہی طرز تعمیر کا سکہ دنیا میں چلنے لگا، اے سی جس کا لازمی جزو تھا۔ 

ایئر کنڈیشننگ کے اس عالم گیر رجحان کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں اب دنیا فکر مند ہوتی جارہی ہے۔ اس مشین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی تحقیق کا عمل جاری ہے۔ امریکا میں توانائی سے متعلق تھنک ٹینک روکی ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور انڈیا کی حکومت نے مل کر اے سی کو زیادہ سے زیادہ ماحول دوست بنانے کے لیے انجینیئرز کی حوصلہ افزائی شروع کردی ہے اور بہتری ڈیزائن بنانے والے کے لیے ’’گلوبل کولنگ پرائز‘‘ کے تحت 30لاکھ ڈالر انعامی رقم کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس مقابلے کا مقصد ایسا اے سی تیار کرنا ہے جو موجودہ اے سی کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ اچھی کارکردگی رکھتا ہو لیکن اس کی پیداواری لاگت موجودہ کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ نہ ہو۔ اس مقابلے کے لیے اب تک ہزار سے زائد انٹریز موصول ہوچکی ہیں جن میں ممتاز جامعات  اور بجلی کے آلات بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ریسرچ ٹیمیوں کے مجوزہ ڈیزائن بھی شامل ہیں۔  روکی ماؤنٹین انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اس کوشش کا آغاز تو کردیا گیا ہے لیکن ایئر کنڈیشننگ کے باعث دنیا کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کو فوری طور پر روکنا ممکن نہیں۔ اس مقابلے میں کام یاب قرار دیے جانے والے ڈیزائن کی تیاری 2022سے قبل ممکن نہیں ہوگی اور مارکیٹ میں اس نئے ماحول دوست اے سی کو جگہ بنانے میں کم از کم ایک دہائی درکار ہوگی۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس ایئر کنڈیشننگ کے رجحان کو کم کرنا بہت مشکل ہے تاہم دنیا کے جن ممالک میں ابھی ایئر کنڈیشن کا استعمال ابتدائی مراحل میں ہے، ان کے پاس متبادل تلاش کرنے کے زیادہ مواقع ہیں۔ حال ہی میں ترقی پذیر ممالک میں اے سی کے استعمال کو کم سے کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے جارے ہیں۔ سڈنی یونیورسٹی سے منسلک آرکی ٹیکچر کی پروفیسر لینا تھامس نے بھارتی حکومت کو تعمیراتی کمپنیوں کے لیے قواعد لاگو کرنے کی تجاوزی دیں جن کی بنیاد پر قومی سطح پر تعمیراتی کمپنیوں کو ایسے ڈیزائن بنانے کا پابند کیا گیا ہے جن میں ایئر کنڈیشنر کی ضرورت کم سے کم ہونی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشننگ کے استعمال کو محدود کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ جدت کو چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کے بے محابا استعمال سے ہونے والے اثرات کے بارے میں جاننا زیادہ ضروری ہے۔ لوگ عام طور پر وقتی فائدے ، سہولت اور آسائش کی بنیاد پر چیزوں کو دیکھتے ہیں اس لیے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جو بھی کرنا ہوگا وہ آج ہی کرنا ہوگا۔ کل کا انتظار نہیں کیا جاسکتا!