کراچی(وقاص باقر،92نیوز)وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ سال گلگت بلتستان میں پولیو وائرس سے بچاو کے لیے ایسی ویکسین بچوں کو پلائی گئی جو ناقابل استعمال تھی،اس ویکسین کے استعمال سے ملک بھر میں دوبارہ پولیو وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا،انسداد پولیو کے نام پر اس ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیاگیا۔مراد علی شاہ نے مردم شماری کے حتمی نتائج نہ آنے تک بلدیاتی الیکشن کا انعقاد نہ ہونے کا عندیہ دیا اور ایف بی آر کو بھی ناکام ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک وفاق نہیں صوبوں کی مدد سے چلتا ہے ، آٹھ آٹھ گھنٹے کی بنیاد پر چیئرمین ایف بی آر لگا کر ایک اور تجربہ کرلیں۔گزشتہ روز وزیراعلی ہاؤس میں مختلف ٹی وی چینلزکے سینئر نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی نے جے آئی ٹی رپورٹس سے متعلق کہا کہ یہ صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ،جے آئی ٹی سندھ حکومت نے بنائی تھی،اصل دستاویز بھی وہی ہوگی جو سندھ حکومت کے پاس ہے ۔مرادعلی شاہ نے بتایا کہ پولیو وائرس کی انڈیوسٹ نامی قسم پاکستان سے مکمل ختم ہوچکی تھی مگر وفاقی حکومت کی سنگین غلطی سے اس کے دوبارہ کیسز سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں،گزشتہ سال گلگت بلتستان میں بچوں کو ایک ایسی پولیو ویکسین دی گئی جو ناقابل استعمال تھی اور بچوں کو پلانے کے بجائے پھینکنا تھی،ناقابل استعمال پولیو ویکسین پلانے سے گزشتہ سال انڈیوسٹ پولیو وائرس کے ایک سو سینتالیس اور رواں سال سندھ میں بیس کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ،جان بچانے والی ادویات کے سکینڈل کی تحقیقات کی جائیں تو سب سامنے آجائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی حکومت کی جانب سے وفاق کا ودہولڈنگ ٹیکس جمع کرنے سے انکار کی بابت کہا کہ ایف بی آر مکمل ناکام ادارہ ہے اس کی تنظیم نو کے بجائے ہر چھ ماہ میں چیئرمین بدل دیاجاتاہے ،ایف بی آر میں بڑے سکینڈلز سامنے آرہے ہیں،جب میں اپنے صوبے کے لوگوں کے لیے بولتا ہوں تو ادھر ادھر سے پیغام بھجوائے جاتے ہیں اور اسی لیے میں ان کی نظر میں ناپسندیدہ ہوں۔انہوں نے اشیاء پر سیلز ٹیکس جمع کرنے کا اختیار صوبوں کو دینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں کورونا کا زور کم ہوگیا ، ایسانہیں ہے ،آگے عیدالاضحٰی، محرم الحرام اور ربیع الاول بھی آرہاہے جس سے میل جول بڑھے گا اور مسائل ہوسکتے ہیں۔