اسلام آباد( سٹاف رپورٹر )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے گورنر سٹیٹ بینک کی تعیناتی کیخلاف درخواست مسترد کرنے کے عدا لتی فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔ سینیٹر تاج حیدر کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت ہوئی تو درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ معیشت کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں رکھتے ، انکی ناتجربہ کاری کے باعث ملکی معیشت تباہی کا شکار ہوئی ، عدالت عالیہ کے سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے طارق باجوہ کو گور نر سٹیٹ بینک کے عہدے سے ہٹایا جائے ۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اﷲ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ نے شہر اقتدار میں جعلی رجسٹریوں کے معاملے پر انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف کمشنر اسلام آباد کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ روٹین کی درخواست میں تفتیشی کا رویہ غیر ذمہ دارانہ رہا، غلط رجسٹری کرنیوالے سب رجسٹرار کو تفتیشی نے بچانے کی کوشش کی ۔سماعت ہوئی تو انسپکٹر جنرل پولیس عامرذوالفقار اور چیف کمشنر عامر احمد علی پیش ہوئے ۔آئی جی نے بتایا تفتیشی ٹیم بنادی ، جلد معاملے کو حل کرینگے ۔ چیف کمشنر نے کہا اسلام آباد میں ایک ہفتے میں زمین کا انتقال لازم قرار دیا ،پیچیدہ فارم کو عام فہم کرکے ایک صفحے کا گوشوارہ بنایا ہے ۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاتفتیشی جرم کو سامنے نہیں لایا جو سسٹم کی ناکامی ہے ،چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے کہاآئندہ معاملے کا فیصلہ کردینگے ۔