دانش احمد انصاری

سافٹ ویئرز، ایپلی کیشنز اور آپریٹنگ سسٹم کی بات کی جائے تو دنیا کاسب سے مشہور پروڈکٹ ’اینڈرائیڈ‘ ہے، جس کے بعد ایپل کمپنی کا تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم ’آئی او ایس‘ کا نمبر آتا ہے۔ اگرچہ اینڈرائیڈ مقبولیت کے اعتبار سے دنیابھر میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا سافٹ ویئر ہے، لیکن سکیورٹی کے حوالے سے بات کی جائے تو یہاں ’آئی او ایس‘ بازی لے گیا ہے۔ جس پر تقریباً دنیا کی تمام معروف شخصیات اعتبار کرتی ہیں، چاہے اُن کا تعلق شو بز سے ہو یا سیاست سے۔ لیکن افسوس اِس بات کا ہے متعدد نئی اپ ڈیٹس اور کاوشوں کے باوجود گوگل اپنے ’اینڈرائیڈ‘ پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے اور صارفین کااعتماد جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ جس کی زندہ مثال حال ہی میں گوگل ’پلے سٹور‘ میں سامنے آنے والی وائرس اور مالویئر پر مبنی ایپلی کیشنز ہیں۔ جنہیں موبائل فون یا دیگر اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں انسٹال کرتے ہی، ڈیوائس کے ہیک ہو جانے یا ٹھیک طریقے سے کام نہ کرنے کا مسئلہ درپیش آ جاتا ہے۔ گوگل پلے سٹور پر بہت سی فوٹو ایڈیٹنگ ایپلی کیشن میں وائرس کی تشخص ہوئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے گوگل پر تنقید کے نشتر برسانے شروع کر دئیے ہیں۔ 

روس کی اینٹی وائرس بنانے والی معروف کمپنی ’ڈاکٹر ویب‘ نے گوگل پلے سٹور میں مالویئر پر مبنی ایپلی کیشن دریافت کی ہیں۔ صارف غلطی سے اگر کسی ایپلی کیشن کو اپنی اینڈرائیڈ ڈیوائس میں انسٹال کرتا ہے تو ہیکنگ کے لیے درکار سافٹ ویئرز اور فائلز خود بہ خود انسٹال ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس کے بعد صارف اپنی ڈیوائس پر کنٹرول کھو دیتا ہے۔ ہیکنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہیکر ڈیوائس کے صارف سے مخصوص رقم طلب کرتا ہے۔ اگر صارف پیسے دینے سے انکار کر دیتا ہے تو ہیکر اُسے اہم معلومات چوری کرنے اور سوشل میڈیا پر وائرل کر دینے کی دھمکی دیتا ہے۔ دباؤ میں آ کر مجبور صارف کو پیسوں کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ وائرس اور مالویئر پر مبنی ایپلی کیشن ’موٹرسائیکل روڈ 2D‘ وائرس کی تشخیص ہو جانے کے باوجود پلے سٹور پر موجود ہے، کمپنی نے ابھی تک اِس ایپلی کیشن کے خلاف کوئی اقدام نہیں اُٹھایا، جس کی وجہ سے متعدد صارفین کو اپنی مہنگی اینڈرائیڈ ڈیوائسز اور اُس میں موجود اہم معلومات، ای میلز اور کانٹیکٹس سے ہاتھ دھونے پڑ گئے ہیں۔