اسلام آباد ( خبر نگار خصو صی،سٹاف رپورٹر ،92 نیوز رپورٹ ،این این آئی) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے 4 چینلز کے اشتہارات روکنے سے متعلق اپنی آڈیو کے درست ہونے کا اعتراف کرلیا،مریم نوازنے آڈیو میں 92نیوز،اے آروائے ،سمااور24نیوزکواشتہارنہ دینے کاحکم دیا تھا۔ پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ میڈیا کے اشتہارات روکنے سے متعلق ان دنوں سوشل میڈیا پر آپ کی ایک آڈیو کلپ وائرل ہورہی ہے اس حوالے سے کیا کہیں گی؟ جس پر مریم نواز نے کہا کہ وہ آواز ان ہی کی ہے اور آڈیو درست ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ آڈیو جوڑ جوڑ کر بنائی گئی یا میری آواز نہیں ، وہ میری آواز ہے ۔مریم نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’یہ کافی پرانی بات ہے ، تب میں پارٹی کا میڈیا سیل چلارہی تھی،اب ثاقب نثار کو بھی جرأت سے اپنے آڈیو کلپ کا اعتراف کرنا چاہیے ۔انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بتائیں کس نے آپ کو مریم اور نواز شریف کو سزا دینے پر مجبور کیا؟،سابق چیف جس سازش کا مہرہ بنے ،اس سازش کے بینیفشری کا نام عمرا ن خان ہے ،جنہوں نے ثاقب نثار کو مجبور کیا وہ آج بھی پردے کے پیچھے ہیں،ثاقب نثار اپنے دفاع میں کچھ نہیں کہہ رہے ، وزرا ہلکان ہو رہے ہیں،حکومتی وزرا اپنے آپ کو بچانے کے لئے ثاقب نثار کا دفاع کررہے ہیں ،شواہد میرے پاس موجودہیں ، میرے وکلا کی ٹیم دیکھ رہی ہے ، انگلیاں عدلیہ پر اٹھی ہیں ،عدلیہ اپنے وقار پر لگے داغ کو خود دھوئے ،نوازشریف کے خلاف جے آئی ٹی بناکر ہیرے لائے گئے ، جب پنڈورا پیپرز آیا تو وہ ہیرے کہاں چلے گئے ۔مریم نواز نے کہاکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کو جھوٹ ثابت کر نے کی دن رات کوشش شروع ہو گئی ۔ آڈیو کلپ کے جملے ’’نوازشریف کو سزا دینی ہے ، مریم نواز کو سزا دینی ہے نہیں بنتی تو بھی دینی ہے اور عمران خان کو لانا ہے ‘‘ یہ جملے اصل اور اعتراف جرم ہے ، میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہماری رہنمائی فرمائیں ، یہ جملے ثاقب نثار نے کس تقریر میں کہے تھے اور اگر وہ تین جملے ثاقب نثار کی آواز ہیں کیا یہ تین جملے کیا ثاقب نثار کی آواز نہیں ؟، یعنی کہ جوبات آپ کو پسند ہے وہ ان کی آواز ہے جو آپ سامنے نہیں لانا چاہتے وہ ثاقب نثار کی آواز نہیں ہے ؟ ۔اگر کوئی تقریر ہے تو وہ پاکستانی عوام کو دکھائیں ، سب سے پہلے گواہی شوکت عزیز صدیقی کی آئی۔ ارشد ملک جنہوں نے نوازشریف کو سزا دی تھی ان کی ویڈیو دنیا کے سامنے ہے ؟ ، ارشد ملک کو سچ بولنے پر سزا دے دی گئی ،،آڈیو اور ویڈیو میں شک وشبہات کر سکتے ہیں ، گلگت بلتستان کے جج کو بلائیں اورپوچھیں ۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار آج نہیں تو کل آ پ کو سچ قو م کو بتانا پڑے گا ،آپ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آڈیو کلپ کا خود ہی اعتراف کر لیں اور عدالت جائیں اگر یہ جھوٹ ثابت ہوا تو آپ کو ہرجانہ ملے گا اور ڈیم بنائیں ۔ مریم نواز نے کہاکہ رانا ثناء اﷲ پر ہیروئن ڈال دی اور ثبوت پیش نہیں کر سکے ، شہباز شریف ، حنیف عباسی ، شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال پر مقدمات بنائے گئے ، پرویز رشید سے سینیٹر کی سیٹ بھی چھین لی گئی ، کیا عمران خان کا کوئی اہل خانہ سنگین ترین الزامات کے باوجود جیل گیا ؟۔ عمران خان نے مہنگائی پر کوئی میٹنگ بلائی ،عوام کو گیس نہیں مل رہی اور ان کی قیمتیں 175فیصد بڑھانے کی باتیں ہورہی ہیں ،اس پر تو عمران خان نے میٹنگ نہیں کی ، آڈیو پر عمران خان نے اپنے ترجمانوں کا اجلاس بلالیا اور کہاکہ (ن)لیگ کا دور یاد کرائو ، آپ نے اتنی تباہی کی کہ مسلم لیگ (ن) کا دور خود یاد آرہاہے ، آپ کو یاد کرانے کی ضرورت نہیں ۔قبل ازیں مریم نواز نے عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ اصل مجرم تو حکومت ہے ۔ نیب تو آلہ کار ہے ، نیب کے پاس کیس اور نہ ثبوت ہے ، نیب سے جب ثبوت مانگے جاتے ہیں تو اس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔دوسری جانب ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے مریم نوازکی آڈیو سے متعلق وضاحت پیش کرتے ہو ئے کہاہے کہ مریم نواز کی گفتگو پارٹی اشتہارات سے متعلق تھی،یہ ایک پرانی ویڈیو ہے جس پر مریم نواز نے جرات کے ساتھ سچ بولا،پارٹی اشتہار سے متعلق فیصلہ پارٹی ہی کرتی ہے ،انہوں نے اس ویڈیو کو مانا کیونکہ اس میں چھپانے والی کوئی بات تھی ہی نہیں ،آڈیو پر طوفان برپا کرنے کی ضرورت نہیں۔