نیب نے مسلم لیگ ن کے سینیٹر اور سابق وزیر پورٹ اینڈ شپنگ کامران مائیکل کو لاہور سے گرفتا رکرلیا جبکہ ایف آئی اے نے جعلی اکائونٹس کے مرکزی کردار اسلم مسعود کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیا۔ وفاقی حکومت احتساب کے لیے سنجیدہ نظر آتی ہے اسی بنا پر اس نے پنجاب کے سینئر صوبائی وزیر علیم خان کی گرفتاری کے بعد کسی قسم کی بیان بازی نہیں کی۔ کچھ دنوں سے میڈیا میں ڈیل اور ڈھیل کی چہ مگوئیاں چل رہی ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز ایک عوامی جلسے میں ان خبروں کو من گھڑت قرار دے دیا ہے۔ اس سے یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ احتساب کا عمل منطقی انجام تک لازمی پہنچے گا لیکن انصاف میں تاخیر بھی انصاف فراہم نہ کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔ اس وقت کئی افراد نیب کی حراست میں ہیں جبکہ سینکڑوں افراد کے خلاف انکوائریاں چل رہی ہیں۔ انہیں فی الفور منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ جعلی اکائونٹس کیس کے مرکزی ملزم گرفتار ہو چکے ہیں‘ اب اس کیس کے سبھی کرداروں سے قانون میں متعین طریقوں کے مطابق تفتیش کی جائے اور عوام کا لوٹا پیسہ واپس خزانے میں لایا جائے۔ احتسابی عمل میں انتقام کی بو آنی چاہیے نہ ہی سیاسی مخالفین کو بے جا .راساں کرنے کی روایت دہرانی چاہیے۔ نیب مجرموں سے ریکوری کو بھی جلد یقینی بنائے۔ سابق وزیر پورٹ اینڈ شپنگ کی طرح اور بھی سابق وزراء پر الزمات ہیں جو موقع تلاش کرکے فرار ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں‘ اس سے پہلے کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں‘ نیب ان کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کرے۔