لاہور(انور حسین سمرائ) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی انتظامیہ جعلی تجربہ اور تعلیمی قابلیت پر بھرتی رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات جو کرپشن، فنڈز کی خورد برد، اختیارات کے ناجائز استعمال سے بھرتیاں کرنے اور اقربا پروری میں ملوث پائے گئے ہیں کو محکمہ ہائر ایجوکیشن کی ہدایات کے باوجود ملازمت سے فارغ کرنے سے تین ماہ سے بلاوجہ گریزکررہی ہے ۔ یونیورسٹی اہلکار کے مطابق رجسٹرار اور کنٹرولر دونوں اہم پوسٹوں پرہونے کی وجہ سے اپنے خلاف احکامات پر عملدرآمد ہونے پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ روزنامہ 92کی تحقیقات اور دستاویزات کے مطابق محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے نیب اور اینٹی کرپشن کی طرف سے رجسٹرار یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور کنٹرولر امتحانات کیخلاف مالی خورد برد ، اقربا پروری ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلی تجربہ و تعلیمی قابلیت پر بھرتی کے سنگین الزامات کی شکایات کی تحقیقات کیلئے تین رکنی انکوائری کمیٹی ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم کی سربراہی میں مئی 2018میں تشکیل دی ۔ رجسٹرار پر الزام تھا کہ ان کو 2005میں سفارش پر اسسٹنٹ رجسٹرار بھرتی کیا گیا اور بعد میں 2009میں قابلیت کے معیار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بطور ڈپٹی رجسٹرار ترقی دی گئی ۔ دوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ ریذیڈنٹ ایڈیٹر نے ان بھرتیوں پر اعتراضات اٹھائے کہ امیدواروں کے تجربہ کے سرٹیفکیٹس بھی مشکوک ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے رجسٹرار گریڈ 19پر بھرتی کیلئے جولائی 2013میں اشتہار دیا جس میں امیدوار کا بی اے ڈگری کیساتھ گریڈ 17میں 13سالہ تجربہ درکار تھا۔سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر دونوں کو بطور رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات بھرتی کر لیا گیا۔ ریزیڈنٹ ایڈیٹر نے آڈٹ رپورٹ میں دونوں بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیکر سفارش کی کہ ان کو فوری برطرف کیا اور جاری کردہ تنخواہ واپس لی جائے ۔ جس پر محکمہ ہائر ایجوکیشن نے بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیکر ختم کرنیکا حکم دیا۔ وائس چانسلر نے ایک کمیٹی بنادی اورکہا گیا کہ آڈٹ اعتراضات درست طور پر نہیں اٹھائے گئے ۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے تجربہ سرٹیفکیٹس کی نجی اداروں سے تصدیق کرائی تو انکشاف ہوا کہ کنٹرولر کا سرٹیفکیٹ جعلی ہے جبکہ رجسٹرار کے سرٹیفکیٹ کی تصدیق نہ ہوسکی۔ رجسٹرار نے مبینہ طور پر 5لاکھ رشوت لیکر لیب سپروائزر کو بھرتی کیا ، انکوائری کمیٹی نے مزید تحقیقات کیلئے وائس چانسلر کو سفارش مگر تاحال عمل نہ ہوسکا۔یونیورسٹی میں ایم کیٹیگری میں بھرتی میں رجسٹرار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے مبینہ طور پر 4لاکھ 50ہزار لیکر رولز کیخلاف داخلے دیئے جن کو انکوائری کمیٹی نے مشکوک قرار دیا۔رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات نے بھاری رشوت لیکر مختلف اہلکاروں کو ترقی دی جو بعد میں مشکوک پائی ۔رجسٹرار پر الزام ہے کہ اس نے اپنے تین قریبی رشتہ داروں کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا جبکہ ڈپٹی رجسٹراراور ٹیک نیشن کی اسامی پر بھی مشکوک بھرتیاں کیں جس پر وائس چانسلر کو انکوائری کا حکم دیا گیا۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے 7 مارچ 2019کو وائس چانسلر کو ایک مراسلہ کے ذریعے حکم دیا کہ وہ فوری طور پر رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی تعیناتی 15یوم میں ڈی نوٹیفائی کریں اور تحقیقات کرکے سنڈیکیٹ کے سامنے قانونی کارروائی کیلئے پیش کریں اور ایسے تمام اہلکار جو ان بھرتیوں میں ملوث ہیں کیخلاف محکمانہ انکوائری کریں اور سزا تجویز کریں۔ جس پر سرکاری ذرائع کے مطابق تاحال عمل نہیں ہوسکا۔وائس چانسلریونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر عزیز اکبر نے رابط کرنے پر بتایا کہ سنڈیکیٹ کے اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کی طرف سے بھجوایا گیا ڈی نوٹیفکیشن کا کیس رکھا گیا تھا جس نے فیصلہ کیا کہ عملدرآمد کیلئے حتمی منظوری چانسلر سے لی جائے اور ابھی تک چانسلر کے فیصلے کا انتظار ہے ۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے یونیورسٹی کے انتظامی امور میں بے جا مداخلت کرکے بیٹرہ غرق کیا ہوا ہے ۔ جعلی تجربہ اور کرپشن کے بارے میں وائس چانسلر نے جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ قانون کے مطابق احکامات پر عمل کیا جائیگا ۔