معزز قارئین!۔ پرسوں ( 8 اگست کو ) اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے ، ( بظاہر ) متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی مظاہرے میں ، مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف ، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ( پی۔ پی۔ پی۔ پی) کے صدر آصف زرداری اور اُن دونوں کے فرزندان حمزہ شہباز اور بلاول بھٹو کے علاوہ امیر جماعت اسلامی جناب سراج اُلحق شریک نہیں تھے ، اِسی لئے احتجاجی مظاہرے کی قیادت امیر ’’جمعیت عُلماء اسلام ‘‘ (ف) فضل اُلرحمن صاحب نے کی ۔ اُن کی پشت پناہی کے لئے (مقتول ) ’’بلوچ گاندھی‘‘ عبداُلصمد خان اچکزئی کے فرزند (پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ) محمود خان اچکزئی موجود تھے ۔ 

یاد رہے کہ۔ 2 دسمبر 2017ء کو کوئٹہ میں ’’بلوچ گاندھی ‘‘ کی 44 ویں برسی کی تقریب میں (اُ ن دِنوں ) وزیراعظم نواز شریف نے محمود خان اچکزئی کا ہاتھ پکڑ کر عوام کو بتایا تھا کہ ’’ محمود خان اچکزئی سے میرا نظریاتی رشتہ ہے اور ہم دونوں برصغیر کے عظیم سپوت عبداُلصمد خان اچکزئی کے مشن کی پیروی میں شانہ بشانہ جدوجہد کریں گے ‘‘۔ فضل اُلرحمن صاحب نے اپنے خطاب میں اڈیالہ جیل کے قیدی نواز شریف کو یقین دلایا کہ ’’ ہم اُن کی کمی محسوس نہیں ہونے دیں گے ‘‘۔ اُن کی سب سے اہم بات تھی کہ ’’ ہم (14 اگست کو ) یوم ؔآزادی کو جدوجہد ؔآزادی کے طور پر منائیں گے ‘‘۔ 

معزز قارئین! مَیں حیران ہُوں کہ ’’ فضل اُلرحمن صاحب اور سمیع اُلحق صاحب کی ’’ جمعیت عُلماء اسلام ‘‘ کے دونوں گروپ تو، اُن کانگریسی مولویوں ( جمعیت عُلمائے ہند) کی باقیات ہیں ، جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور حضرت قائداعظم ؒ کے خلاف کُفر کے فتوے دئیے تھے حسین احمد ؔمدنی اور اُن کے بعد ابو اُلکلام ؔآزاد نے باری باری ’’انڈین نیشنل کانگریس ‘‘ کی صدارت "Enjoy" کی ۔ مصّور پاکستان علاّمہ اقبالؒ نے ’’حسین احمد ‘‘ کے عنوان سے اپنی فارسی نظم میں ، اُنہیں خُوب لتاڑا تھا۔ نظم کا اردو ترجمہ یوں ہے کہ …

’’عجم (مراد غیر عرب دُنیا ، ایران ، برصغیر ہند وغیرہ) کے مسلمان ابھی تک دین (اسلام) کے اسرار و رموز سے ناواقف ہیں ۔ ورنہ دیوبند کے حسین احمد ؔنے برسر منبر یہ کیسی حیران کن بات کہہ دِی ہے کہ ’’ ملّت ۔ وطن سے ہے‘‘۔ وہ (حسین احمد) محمد عربی ﷺ کے مقام سے کِس قدر بے خبر ہے ؟ ۔ تو خُود کو حضرت مصطفی  ؐ تک پہنچا کہ آپ سراپا دین ہے۔ اگر تو حضور ؐ  تک نہیں پہنچا تو ،تیرے سارے اعمال ۔ بو لہب ؔ ، کے سے ہوں گے ! ‘‘۔ حضرت قائداعظمؒ نے ابو اُلکلام آزاد کو کانگریس کا "Show Boy" قرار دِیا تھا ۔ 

معزز قارئین!۔ قیام پاکستان سے چند روز قبل (کانگریسی مولوی) غلام غوث ہزاروی کی صدارت میں علاقہ پیسہ اخبار لاہور میں ، منعقدہ جلسہ عام میں ( سٹیج پر ، فضل اُلرحمن صاحب کے والد مفتی محمود صاحب بھی موجود تھے ) جب تحریک پاکستان کی ایک اور مخالف جماعت ۔ ’’ مجلس احرار ِ اسلام‘‘ کے مولوی مظہر علی اظہرؔ ٗ( المعروف اِدھر علی اُدھر) نے قائداعظمؒ کو کافر ِ اعظم قرار دِیا تو اُسی وقت ، جلسہ گاہ میںموجود بہت سے مسلمانوں نے احتجاج کِیا ۔ قیام پاکستان کے بعد مفتی محمود صاحب کا یہ بیان "On Reocrd" ہے کہ ’’ خُدا کا شُکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے‘‘ لیکن عجیب بات ہے کہ ’’ قائداعظمؒ کے پاکستان ہی میں مفتی محمود صاحب ’’مُک مُکا ‘‘ کی سیاست کے ذریعے ، صوبہ سرحد ( موجودہ خیبر پختونخوا ) کے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب اور برطرف بھی ہُوئے ؟ ۔

28 اپریل 1997ء کو قومی اخبارات میں فضل اُلرحمن صاحب کا یہ بیان شائع ہُوا تھا کہ ’’ پاکستان ایک خوبصورت نام ہے، لیکن طاغوتی ( شیطانی ) نظام کے باعث مجھے اِس نام سے گھن آتی ہے ‘‘۔ جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں جب، مادرِ ملّت محترمہ فاطمہ جناحؒ ، ’’فیلڈ مارشل ‘‘ صدر محمد ایوب خان کے مقابلے میں ، متحدہ اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار تھیں تو، مفتی محمود صاحب نے ملتان میں ’’ جمعیت عُلماء اسلام ‘‘ کی مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہُوئے ، عورت کی سربراہی کو شریعت کے منافی قرار دِیا تھا لیکن پھر فضل اُلرحمن صاحب نے ’’اجتہاد ‘‘ کِیا اور وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے حامی و ناصر بن گئے؟۔ 

محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دوسرے دَور میں وزیر داخلہ میجر جنرل (ر) نصیر اللہ خان بابر نے میڈیا سے خطاب کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ’’ مَیں نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ سے کہا ہے کہ ’’ اگر آپ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی چابیاں بھی فضل اُلرحمن صاحب کے حوالے کردیں توبھی اُن کا پیٹ نہیں بھرے گا؟ ‘‘۔ دوسرے دِن ایک موقع پر اخبار نویسوں نے فضل اُلرحمن صاحب سے پوچھا کہ ’’ کیا آپ وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر پر ہتک ِ عزت ؔ کا دعویٰ نہیں کریں گے؟ ‘‘تو فضل اُلرحمن صاحب نے کہا تھا کہ ’’ مَیں نے یہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دِیا ہے ‘‘۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دَور میں ڈاکٹر شیر افگن نیازی وزیر پارلیمانی امور تھے ، اُنہوں نے ایوان میں کہا تھا کہ ’’ صدر جنرل پرویز مشرف کی


 ہدایت پر سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے اِس شرط پر فضل اُلرحمن صاحب کو ’’قائدِ حزب ِ اختلاف ‘‘ نامزد کِیا ہے کہ ’’ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کی حمایت کریں گے ‘‘۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ ’’ فضل اُلرحمن صاحب کے پاس ایسی کون سی ’’ گِیدڑسینگی ‘‘ ہے کہ ’’ پہلے صدر آصف علی زرداری اور پھر وزیراعظم نواز شریف نے اُنہیں وفاقی وزیر کے برابر "Status" دے کر قومی اسمبلی کی ’’نیشنل کشمیر کمیٹی ‘‘ کا چیئرمین مقرر کِیا۔ ’’ نااہل وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر اُن کے "His Master's Voice" شاہد خاقان عباسی نے 13 اکتوبر 2017ء کو مفتی محمود صاحب کی 37 ویں برسی سے ایک دِن پہلے وزیراعظم ہائوس کی دیوار پر پہلے سے نصب "Four Colour Plaque" ( دھات، چینی وغیرہ کی تختی) کی نقاب کُشائی کی تھی ۔ اگلے روز قومی اخبارات میں یہ خبر شائع ہُوئی تھی کہ ’’وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مفتی محمود صاحب کی ’’ دینی ، قومی اور سیاسی خدمات کے اعتراف میں ’’ یادگاری ٹکٹ‘‘ بھی جاری کردِیا ہے! ‘‘ ۔ 

عمران خان صاحب !۔ آپ کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کے بعد فوراً ہی دو کام ضرور کرنا ہوں گے! ۔ پہلا تو یہ کہ وزیراعظم ہائوس کی دیوار میں نصب مفتی محمود صاحب کی ’’ یادگاری لوح‘‘ کو اُٹھا کر باہر پھینک دیں !۔ اِس عمل سے آپ تحریک پاکستان کے ماشاء اللہ حیات کارکنوں اور اُن کی اولاد سے ڈھیر ساری دُعائیں حاصل کر سکیں گے اور دوسرے فضل اُلرحمن صاحب نے چیئرمین نیشنل کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے (بھارت سمیت ) اپنی جمعیت عُلماء اسلام کے وفود کی قیادت کرتے ہُوئے جتنی بار بھی دُنیا کے دورے "Enjoy" کئے ہیں ، اُن کی "N.A.B" یا "F.I.A" سے تحقیقات کروائیں !۔ مجھے یقین ہے کہ ’’کشمیر کمیٹی کے نام پر اربوں روپے کا گھپلا ؔ ، منظر عام پر آئے گا‘‘۔ 

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ’’ پاکستان میں جتنی بار بھی عام انتخابات ہُوئے اُن میں ’’ کانگریسی مولویوں‘‘ کی باقیات کو بھاری مینڈیٹ کیوں نہیں مِل سکا؟۔ اِس لئے کہ اُن کے زیر انتظام دینی مدرسوں میں علاّمہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا نظریۂ پاکستان اور تحریک پاکستان کے بارے میں مضامین نہیں پڑھائے جاتے؟۔ 25 جولائی 2018ء کے انتخابات میں ، کئی مقامات پر دہشت گردی کے باوجود ہر موقع پر علاّمہ اقبالؒ ، قائداعظمؒ اور مادرِ ملّت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے نظریۂ پاکستان کی روشنی میں نیا پاکستان بنانے کے دعویدار عمران خان اور اُن کی پاکستان تحریک انصاف کوبھاری مینڈیٹ مل گیا ہے ۔ میرے نزدیک کانگریسی مولویوں کی باقیات کا سیاسی مستقبل ہمیشہ کے لئے تاریک ہوگیا ہے ۔ اب انشاء اللہ 14 اگست کو محبِ وطن پاکستانی ہی ’’ یوم آزادی ‘‘ منائیں گے ۔فضل اُلرحمن صاحب کا ’’جدوجہد ِ آزادی ‘‘ کا نعرہ ، خیالِ خام کے سِوا کچھ نہیں ؟۔