اسلام آباد(لیڈی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کی 90 دن کی معطلی کا حکم معطل کرتے ہوئے انہیں کام کی اجازت دیدی ہے ۔جسٹس محسن اختر کیانی نے معطلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ شیخ انصر عزیز عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔سیکرٹری چیئرمین لوکل کمیشن افسر علی سفیان عدالت میں اصل ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہوئے ۔اس موقع پر عدالت نے مذکورہ رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت میں ایسے ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے ؟ کیا ایم سی آئی کے ساتویں اجلاس کے ایجنڈے میں میئر کی معطلی شامل تھی؟ سیکرٹری چیئرمین لوکل کمیشن نے کہا کہ نہیں اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا،۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو لوکل گورنمنٹ کمیشن کے 7 مئی اور 14 مئی کے اجلاس کے منٹس عدالت میں پیش کیے گئے ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ کمیشن کے 9 اراکین میں سے 6 اجلاس میں موجود تھے اور لوکل گورنمنٹ کمیشن کی سفارشات پر وفاقی حکومت نے میئر اسلام آباد کو معطل کیا۔میئر اسلام آباد کے وکیل کاشف ملک نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ علی سفیان پر اعتراض اٹھا یااور کہا کہ انکے کنڈکٹ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے موکل کو کرپشن کے الزامات پر معطل کیا گیا، ان کرپشن الزامات کی وجہ سے معاشرے اور اہل خانہ کے سامنے میرے موکل کی عزت داؤ پر لگی ہے ۔