گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے 208ارب روپے کی ٹیکس معافی پر ذرائع ابلاغ اور عوامی تنقید بڑھنے پر وزیر اعظم عمران خان نے ٹیکس معافی پانے والی تمام کمپنیوں کا آڈٹ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے عوام کے خزانے کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے اور اس خزانے سے کسی کو نوازا نہیں جائے گا۔ صنعت کاروں کو 208ارب روپے ٹیکس معافی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی معاشی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھے۔ تحریک انصاف کا قیام حکمران طبقات کی بدعنوانی کے خلاف ایک عوامی تحریک کے طور پر عمل میں آیا۔ احتساب اور بدعنوانی کا خاتمہ چونکہ براہ راست طاقتور حلقوں کو چیلنج کے مترادف ایجنڈا تھا اس لئے عمران خان کو سیاسی جدوجہد بائیس برس تک جاری رکھنے کے بعد اقتدار ملا۔تحریک انصاف کا ووٹر اس لحاظ سے منفرد سوچ رکھتا ہے کہ وہ عمران خان کا حامی ہے مگر سرکاری وسائل کے غلط استعمال یا کسی فیصلے کے خلاف اپنی رائے ظاہر کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ چند روز سے سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی ہے جس میں بتایا گیا کہ حکومت نے جی آئی ڈی سی کے 208ارب روپے چند صنعت کاروں کو معاف کر دیے۔ کچھ سوشل میڈیا پوسٹوں میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں کا نام بھی ان فائدہ اٹھانے والوں میں شامل بتایا جا رہا ہے جنہیں ٹیکس معاف کیا گیا۔ روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کابینہ نے 9جولائی کو 50فیصد سرچارج معافی سے قبل فرانزک آڈٹ والی شرط حتمی ڈرافٹ سے خارج کرا دی۔ وزیر اعظم عمران خان نے فرٹیلائزر انڈسٹریز کا فرانزک آڈٹ کرانے کی یقین دہانی کرا کر حکومتی ٹیم کی غلطی سدھارنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا کرنا ان کی ذمہ داری ہے مگر اس معاملے کو صرف اس حد تک دیکھنا درست نہیں۔ ضروری ہے کہ ان شخصیات اور بااثر لابی کو بھی بے نقاب کیا جائے جو وزیر اعظم کے شفاف گورننس کے تصور کو گدلا کر رہے ہیں۔ دانائوں کا قول ہے کہ بدعنوانی جمہوریت کو ایک شیطانی چکر میں الجھا دیتی ہے جس میں پھنس کر تمام جمہوری ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ بدعنوانی اداروں کو اس حد تک کمزور کر دیتی ہے کہ وہ کرپشن پر قابو پانے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ حالیہ برس ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بدعنوانی کی سطح جانچنے کے لئے ایک سروے کیا اس سروے کے مطابق ڈنمارک‘ نیوزی لینڈ ‘ فن لینڈ‘ سنگا پور‘ سویڈن اور سوئٹزر لینڈ ان ممالک میں شامل ہیں جہاں سب سے کم کرپشن پائی جاتی ہے۔ جبکہ بدعنوانی کی دلدل میں سب سے زیادہ دھنسے ممالک میں شمالی کوریا‘ یمن‘ جنوبی سوڈان‘ شام اور صومالیہ ہیں۔ یہ سروے بتاتا ہے کہ دنیا کے 113ممالک میں 2006ء سے اب تک جمہوری سکور کم ہوا ہے۔ جمہوری سکور کو شفاف انتخابات‘ اداروں کی آزادی‘ سیاسی حقوق اور شہری حقوق سے ماپا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے کئی ممالک کے متعلق اس سروے میں عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کی سابق حکومتوں نے انتخابی دھاندلی کی جس کا ایک ثبوت آئی جے آئی بنا کر نواز شریف کو اقتدار دلانا ہے۔ سابق حکومتوں نے اداروں کی آزادی کو سلب کیا۔ ہر ادارے میں سیاسی مداخلت اور تعیناتیاں کی گئیں۔ سیاسی حقوق کو جمہوری حکومتوں نے معطل کیا اور جہاں تک شہری حقوق کی بات ہے تو جسٹس قیوم کی جانب سے بے نظیر بھٹو کو سزا کس کے ٹیلی فون پر دی گئی یہ کوئی راز کی بات نہیں رہی۔ ایسا سب کچھ اس وجہ سے ہوتا رہا کہ ملک میں ہونے والی کرپشن کو روکنے اور لگام ڈالنے کے لئے کوئی سنجیدہ نہیں تھا۔ حتیٰ کہ ملکی معیشت کو بھی بدعنوان عناصر بلیک میل کر رہے تھے۔ یہ درست ہے کہ منجمد معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے کاروباری اور صنعت کار طبقے کو بعض مراعات دینا سود مند ہوتا ہے۔ ٹیکسوں میں چھوٹ‘ عشروں سے ناقابل وصول قرضوں کی معافی اور سبسڈیز کے ذریعے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ سابق حکومتوں کی جانب سے اس طرح کے اقدامات ہوتے رہے ہیں۔ ان سے وقتی طور پر معاشی سرگرمیاں بڑھ جاتی تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل شفافیت سے محروم ہونے کی وجہ سے ہمیشہ عوام کے لئے تشویش کا باعث رہا۔ وزرائے اعلیٰ بغیر کسی قاعدے قانون اور مستند استحقاق سرکاری زمینیں اپنے حامیوں کو الاٹ کرنے کا حکم دیتے رہے۔ حکمران جماعت کے انتخابی اخراجات برداشت کرنے والے صنعت کاروں کو بڑے ٹھیکے دے کر ان کی خدمات کا انعام دیا جاتا۔ سیاستدان اربوں روپے کے قرضے معاف کرا لیتے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ بہت سے ایسے جرائم عشروں بعد منظرعام پر آتے ہیں تو تب تک معاملہ انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہوتا ہے۔ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (G I D C)کی مد میں جن صنعت کار گروپوں کو اربوں روپے کا ٹیکس معاف کیا گیا ہو سکتا ہے وہ یہ رعائت لینے کے مستحق ہوں مگر جس انداز سے طے شدہ شرائط کو آرڈی ننس کے حتمی مسودے سے نکال کر یہ ٹیکس معاف کیا گیا وہ وزیر اعظم کے شفاف گورننس کے تصور کے برعکس ہے۔ وزیر اعظم نے ٹیکس معافی کی رعائت حاصل کرنے والی کمپنیوں کے فرانزک آڈٹ کی ہدایت کر کے صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچایا ہے۔ حکومت کو اس معاملے پر اپنا موقف ضرور عوام کے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ اس کے معاشی اہمیت کے فیصلوں کو عوامی اعتبار حاصل رہے۔