لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ قاسم خان نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے خلاف درخواست حکومت کو مختلف تجاویز دیتے ہوئے نمٹا دی ،دوران سماعت فاضل جج نے کہا میں حکومت کو تجاویز دینے جا رہا ہوں، حکومت مستند اسلامک ویب سائٹس سے لوگوں کو آگاہ کرے ، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور ہم نے اسلامی قوانین کو فروغ دینا ہے ، حکومت از خود قران و حدیث کی تعلیم کیلئے ویب سائٹس بنائے ، تعلیم کیلئے تمام مکاتب فکر کو بورڈ میں شامل کریں، ویب سائٹس جہاں اسلامی معلومات میں تحریف ہو لوگوں کو اس سے متعلق آگاہ کیا جائے ، جو آئین میں غیر مسلم ہیں انکی ویب سائٹ کا بھی لوگوں کو بتایا جائے ، تحریف پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کریں، کابینہ اسکو دیکھے ، ایک ادارہ بنائیں جو انٹرنیٹ کی مانیٹرنگ کرتے رہیں، جہاں کوئی پروگرام مشکوک ہو اس کا معاملہ سکالرز کو بھجوایا جائے ،کسی کے مدعی بننے کا انتظار نہ کریں حکومت خود کارروائی کرے اورمقدمات درج کرائے ۔چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے گرین لینڈ ایریاز پر 557 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعمیر کے خلافدرخواست پرعدالتی معاونین اور سرکاری وکلائسے تحریری تجاویز طلب کرلیں۔فاضل جج نے استفسارکیا قبرستانوں کے بارے میں کیا صورتحال ہے ؟۔سرکاری وکیل نے کہا قبرستانوں کے لئے جگہ مختص کردی، کام شروع ہوگیاے ۔چیف جسٹس قاسم خان نے شہری کی جائیداد پر پولیس قبضے سے متعلق کیس میں ایس پی صدر ڈویژن کی غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کے پیش نہ ہونے کی بنیاد پر سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی۔عدالت نے کہا معافی سے کام نہیں چلے گا ،یہ تو ہراساں کرنا ثابت ہو گیا ، فاضل جج نے سرکاری وکیل سے کہا اگر آپ چاہتے ہیں تو آج ہی ایس پی کو سزا سنا دیتے ہیں ، میں تو چاہتا ہوں ایس پی کے سامنے درخواست گزار کو سنا جائے ،آئندہ سماعت پر مرکزی کیس اور ایس پی صدر حفیظ الرحمن کی غلط بیانی سے متعلق فیصلہ بھی سنایا جائے گا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے انکم ٹیکس ریٹرنز ادا نہ کرنے کے خلاف درخواست پر وفاقی سیکرٹری ریونیو ڈویژن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، فاضل جج نے عدالتی احکامات کے باوجود ادائیگی نہ کرنے پر برہمی کااظہارکیااورایف بی آر کے وکیل کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قراردیا سیکرٹری پیش ہوکر ہی وجوہات بتائے گا۔چیف جسٹس نے لاہور تا نارووال روڈ کی عدم تعمیرکے خلاف درخواست پرحکومتی اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کو ملنے والے ترقیاتی فنڈز کی رپورٹ 15جون کو طلب کر لی۔