اسلام آباد (ذیشان جاوید /راجہ کاشف اشفاق) ایف آئی اے کی جانب سے لاہور میں اتفاق فاؤنڈری کی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام اور دیگر نجی رہائشی منصوبوں میں ایل ڈی اے اور صوبائی ادارے ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا) کے مبینہ کردار کے حوالے سے شواہد اکٹھے کر نا شروع کر دیئے جبکہ مذکورہ معاملے میں آئندہ ماہ کی درمیانی مدت میں ایل ڈی اے ، ٹیپا، سابق پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام سے تفتیش کے لیے تحقیقاتی ادارے کے حکمت عملی کی تیاری پر بھی کام شروع کر دیا ۔ایف آئی اے کے صدر دفتر کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ 92 نیوز کو بتایا کہ لاہور میں قائم نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور شریف برادران کی ملکیت اتفاق فاؤنڈری کی اراضی کو ایل ڈی اے حکام اور بحریہ ٹاؤن کی مبینہ ملی بھگت سے رحمت ہاؤسنگ سوسائٹی میں تبدیل کرنے کے حوالے سے تحقیقاتی ادارے نے ان رہائشی منصوبوں کے فرانزک آڈٹ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو رواں ماہ کے آخری ہفتے میں ممکنہ طور پر مکمل کر لیا جائے گا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کا ماننا ہے کہ اتفاق فاؤنڈری کی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹی کو بہتر اپروچ دینے کے لئے ایک ارب 45 کروڑ 38 لاکھ روپے کی لاگت سے کچا جیل روڈ پر فلائی اوور تعمیر کیا گیا جبکہ شریف فیملی نے جو اس وقت اقتدار میں تھی، مبینہ طور پر فائدہ حاصل کرنے کے لیے صوبائی ادارے ایل ڈی اے لاہور ٹیپا کے اعلیٰ حکام کی خدمات حاصل کیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف آئی اے کے صدر دفتر نے لاہور میں قائم علاقائی دفتر کو ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ وہ لاہور میں قائم تمام نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا فرانزک آڈٹ جلد از جلد مکمل کر کے ہیڈ کوارٹر زکو رپورٹ کریں۔ اس حوالے سے حالیہ دنوں میں ایف آئی اے صدر دفتر کی ایک ٹیم لاہور میں قائم علاقائی دفتر کی معاونت کے لیے وہاں موجود تھی۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق لاہور میں ایل ڈی اے سے تمام ریکارڈ جمع کیا جا رہا ہے اور لاہور میں موجود ایف آئی اے زونل آفس میں ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اگر مزید تحقیقات کی ضرورت محسوس کی گئی تو اسلام آباد کی ٹیم تمام ریکارڈ اپنے قبضہ میں لینے کے بعد اس پر باقاعدہ طور پر کارروائی عمل میں لائے گی۔