ڈیرہ غازی خان،لاہور ،اسلام آباد (ڈسٹرکٹ رپورٹر ،سپیشل رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ،ایجنسیاں ) ڈیرہ تونسہ بائی پاس کے مقام پر مسافر بس اور ٹرالر میں المناک حادثہ ہوا جس میں،تین بھائی ، ایک ہی خاندان کے 5افراد ، بس ڈرائیور سمیت 34 مسافر جاں بحق ،59 سے زائد زخمی ہو گئے ،کئی کی حالت نازک ہے ، کئی افراد کی ٹانگیں اور بازو ٹو ٹ گئے ،عید منانے کیلئے جانے والوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ۔ تفصیلات کے مطابق تونسہ بائی پاس روڈ جھوک یار شاہ مسجد حیاتانی والی کے قریب تیز رفتار بس اور ٹرالر کے مابین خوفناک تصادم ہوا ، بس سیالکوٹ سے براستہ ڈیرہ غازی خان راجن پور جارہی تھی جبکہ ٹرالر کراچی سے پشاور کی جانب جارہا تھا کہ آمنے سامنے سے ٹکرانے سے حادثہ رونماہوا، 26 مسافرموقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے ، ہر طرف چیخ وپکار شروع ہو گئی ،حادثہ کی آواز سن کرآس پاس علاقہ کے لوگ مدد کے لیے پہنچ گئے ، اطلاع ملتے ہی ڈیرہ سے 1122 اور ٹریفک و مقامی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ،جاں بحق افراد اور زخمی ہونے والے افراد کو ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازیخان منتقل کردیا گیا،انتظامیہ نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ، زخمیوں کو خون کاعطیہ دینے کیلئے شہری اور پولیس اہلکار ہسپتال پہنچ گئے ، زخمیوں اور مرنے والوں کا زیادہ تعلق ڈیرہ غازی خان، راجن پور کے علاقوں سے بتایا جارہا ہے جو عید کی چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے گھروں کو جا رہے تھے ، مسافروں میں زیادہ تر تعداد مزدور طبقہ کی تھی ۔مسافروں نے بتایا کہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت ، تیز رفتار ی ،نیند آنے ، اوورلوڈنگ کی وجہ سے رونما ہوا ،مرنے والے افراد کی میتیں آبائی گھروں کو بھیج دی گئی ہیں ،بس کے اندر اور چھت پر زائد مسافر سوار تھے ،کمشنر ڈی جی خان ڈاکٹر ارشاد احمد نے بتایا کہ زخمی اور جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں،حادثہ کے بعد ہر طرف چیخ و پکار شروع ہو گئی ،بس ٹرالر کے اندر گھس گئی، کرین سے الگ کیا گیا،بس کی باڈی کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کا نکالا گیا ، ڈرائیور کی شناخت محمد اشفاق کے نام سے ہوئی ہے اور اسکا تعلق گوجرانوالہ ڈویژن سے بتایا جارہا ہے ، بس میں چار سگے بھائی بھی سوار تھے جن میں تین بھائی کلیم اللہ، عبدالرزاق اورفاروق احمد جن کا جام پور سے تعلق تھا موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بھائی ملازم حسین شدید زخمی ہے تینوں بھائیوں کی میتیں جب گھر پہنچیں تو کہرام برپاہوگیا ، بعد ازاں انکی تدفین کردی گئی ۔ تنویراحمد نے بتایا کہ حادثے میں اسکا چھوٹا بھائی ، چچا اور تین کزن بھی جاں بحق ہوئے ۔پانچوں سیالکوٹ فیکٹری میں کام کرتے تھے اور عید کی چھٹیاں گزارنے کے لیے واپس آ رہے تھے ، صبح پانچ بجے بھائی نے کال کی کہ تونسہ بیراج کراس کر لیا ہے ، پھر تھوڑی دیر بعد انہوں نے آگاہ کیا ہم ڈی جی خان پہنچ رہے ہیں لیکن 10 منٹ بعد کال آئی کہ بس کو حادثہ پیش آ گیا ہے ۔ جائے وقوعہ سے بس اور ٹرالر کو ہٹا دیا گیا اور ٹریفک بحال کر دی گئی ۔ ٹیچنگ ہسپتال کے سامنے قیامت صغری کامناظر دیکھنے میں آئے ، جسد خاکی لینے والے والدین پر غشی کے دورے ، ہرآنکھ اشک بار تھی ، لاشوں کے قریب بچوں کے کھلونے اور اہلخانہ کے تحائف بکھرے نظر آئے ۔ وزیرداخلہ شیخ رشید احمد ،وزیراطلاعات فواد چودھری ،چیئرمین سینٹ ،ڈپٹی چیئرمین سینٹ ، گورنر پنجاب سرور چودھری ،معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان ،پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اوردیگر نے بھی ٹریفک حادثہ پر اظہار افسوس کیا ۔