الیکشن کمیشن نے اضافی مخصوص نشستوں کے اراکین کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی سے اضافی مخصوص نشستوں پر 22،اقلیتی پر3، کے پی کے اسمبلی سے اضافی مخصوص نشستوں پر 25 منتخب اور 4اقلیتی ارکان, پنجاب اسمبلی سے مخصوص نشستوں پر 27،3اقلیتی ارکان اور سندھ اسمبلی سے مخصوص نشستوں پر منتخب 3اور ایک اقلیتی رکن کی رکنیت معطل کی گئی۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے ان اضافی مخصوص نشستوں پر ارکان کی رکنیت معطل کرکے ناصرف اپنی غلطی کا ازالہ کیاہے بلکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں کی دوسری جماعتوں میں تقسیم کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف جو اعتراضات کئے گئے تھے، وہ بھی درست ثابت ہو ئے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل کی رٹ مسترد کر دی تھی اور سپریم کور ٹ نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔ اس قضیے پر سنی اتحاد کونسل کے مؤقف پر الیکشن کمیشن غور کر لیتا توآج تین ماہ بعد اس معطلی کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ الیکشن کمیشن کے وقار اور غیر جانبداری کا تقاضا ہے کہ وہ مخصوص جماعتوں کی حمایت کے اپنے تاثر کو ختم کر کے میرٹ کی بنیاد فیصلے کرے تو بہت سے سیاسی و انتخابی معاملات وقت پر حل ہو سکتے ہیں۔