سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر نعمان وزیر نے انکشاف کیا ہے کہ 40تھرمل پاور پلانٹس کو 10سال میں 955ارب کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں اور ان اضافی ادائیگیوں کا معاملہ کمیٹی میں اٹھانے پر دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام آئی پی پیز کا آڈٹ کیا جائے تو یہ رقم دو ہزار ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ماضی کی حکومتوں نے آئی پی پیز کے ساتھ ایسے معاہدے کئے جو بعدازاں قوم کے لئے گلے کا پھندہ بن گئے۔ ان کو کروڑوں اربوں روپے کی ادائیگیاں تو کی جاتی رہیں لیکن عوام بجلی کے بھاری بلوں اور لوڈشیڈنگ کی صورت میں عذاب بھگتتے رہے گویا عوام کو تو بجلی نہ ملی لیکن ان کو اربوں کی اضافی ادائیگیاں کردی گئیں۔ اب اگر کمیٹی میں یہ معاملہ اٹھایا جا رہا ہے تو متعلقہ سینیٹر کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اگر آڈٹ ہوا تو سارے معاملات کھل کر سامنے آ جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان اضافی ادائیگیوں کے معاملہ کو ٹھپ کر دیا جائے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملہ کا مکمل آڈٹ کرایا جائے اور اضافی ادائیگیوں کے اربوں روپے واپس لئے جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی حکومت کو قومی خزانے سے کھلواڑ کرنے کی جرات نہ ہو سکے ۔ بہتر یہ ہو گا کہ ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر پر بھرپور توجہ دی جائے اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگایا جائے تاکہ قوم آئی پی پیز کی بلیک میلنگ سے نجات حاصل کر سکے۔