اسلام آباد(خبر نگار، مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت عظمیٰ نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کے بیان پر سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق کیس نمٹا دیا ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قرار دیا ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے واضح لفظوں میں بتادیا ہے کہ صوبائی حکومت معاملے کی تفتیش کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دینا چاہتی ہے ،ایڈوکیٹ جنرل کے اس بیان کے بعد درخواست گزار کا مدعا پورا ہوگیا ، انسداد دہشتگردی ایکٹ کے سیکشن انیس کے تحت تفتیش کے لئے جے آئی ٹی کی تشکیل حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے ۔چیف جسٹس نے شاہراہ دستور پر عوامی تحریک کے دھرنے کا معاملہ اٹھایا جبکہ روسٹرم پر بڑی تعداد میں وکلا کے آنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا عدالت کے لئے کوئی کیس سیاسی ہوتا ہے نہ عدالت پر اس طرح دباؤ ڈالا جاسکتا ہے ،ہم قانون کے مطابق معاملہ دیکھیں گے ۔بد ھ کوسماعت ہوئی توعوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری پیش ہوئے ۔طاہر القادری نے کہا 17جون 2014کو رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر پر امن مظاہرین کیخلاف آپریشن کیا گیا جس میں ہمارے مطابق دس افرادشہید اور سو زخمی جبکہ حکومت کے مطابق ستر افراد زخمی ہوئے ،حکومت نے اسی دن پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا جبکہ ان کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی اور وقوعہ کے ڈھائی ماہ بعد 28اگست کو سیکنڈ ایف آئی آر درج کی گئی ۔ایک جے آئی ٹی پولیس کی ایف آئی آر میں بنائی گئی جبکہ ہماری ایف آئی آر کو پرائیوٹ کمپلینٹ کے ساتھ یکجا کرکے دوسری جے آئی ٹی بنائی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا معاملے کی جوڈیشل انکوائری بھی ہوئی،طاہر القادری نے کہا باقر نجفی رپورٹ عدالتی حکم پر شائع ہوئی جس سے بہت سارے حقائق سامنے آگئے ۔چیف جسٹس نے پوچھا اب تک کتنے گواہ پیش ہوئے ، طاہرالقادری نے کہا127گواہ پیش ہونے ہیں،23کے بیان ریکارڈ ہوچکے ۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا مشتاق سکھیرا کے ملزم نامزد ہونے کے بعد اب تمام گواہوں کا بیان از سر نو ریکارڈ ہوگا، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ معاملہ زیرو پر آگیا ۔طاہر القادری نے کہا درخواست گزار بسمہ کی والدہ تنزیلہ اور پھوپھی شہید ہوئی ، کیا یہ لوگ نہتے فلسطینی یا کشمیری تھے جن پر گولیاں برسائیں گئیں۔چیف جسٹس نے کہا ہم نے ٹرائل کورٹ کو روازنہ کیس کی سماعت کا کہا لیکن آپ نے درخواست دائر کی روزانہ سماعت نہ کی جائے ۔طاہر القادری نے کہامعاملہ روزانہ یا ہفتے میں دو دن سماعت کا نہیں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا ہے جو پورے نہیں ہورہے ہیں،ہمیں پولیس تفتیش پرنہیں اعتراض ان پر جن کے کہنے پر تفتیش ہوئی اور وہ ہمارے ملزم ہیں، تحقیقاتی ٹیم نے زخمیوں کا بیان ہی نہیں لیا۔چیف جسٹس نے کہا آپ کا کہنا یہ ہے جے آئی ٹی کی تفتیش غیر جانبدارانہ نہیں تھی لیکن آپ نے عدالت میں آنے سے پہلے دھرنا دیا ،عدالت کے دروازے کھلے تھے لیکن آپ نہیں آئے اور پورے ملک بشمول اس عدالت کو مفلوج کیا،ہمیں پتہ ہے آپ کس کے پاس گئے لیکن آپ کو بتادوں اس ملک کا سب سے مضبوط اور ادارہ یہ عدالت ہے ،آپ اس ملک کے بزرگ ہیں لیکن یہ عزت دی کہ ججوں کے راستے بند کردیے ،عدالت کی دیواروں پر کپڑے ڈالے گئے ،اس وقت عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکٹایا۔طاہر القادری نے کہا عدالت کی دیواروں پر کپڑے ڈالنا قابل مذمت ہے لیکن ہم مظلوم تھے ، ہم پر 56مقدمے بنائے گئے ، ہر مقدمے میں سو ڈیڑھ سو نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ ہمارے ملزم وزیر اعظم ،وزیر اعلٰی اور وزیر قانون تھے ، پولیس ان کیخلاف کیسے تفتیش کرتی،پولیس ہماری دشمن نہیں لیکن کوئی تو تھے جن کے کہنے پر سب کچھ ہوا، ان لوگوں کے بیان ریکارڈہونے تک حقائق سامنے نہیں آئیں گے ۔چیف جسٹس نے کہا کمیشن نے تو رانا ثنا اﷲ کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔ طاہر القادری نے کہا جسٹس باقر نجفی نے بیان ریکارڈ کیا لیکن آپریشن سے پہلے سولہ جون کو میٹنگ ہوئی جس میں رانا ثنا اﷲ موجود تھے ،جنہوں نے منصوبہ بنایا اور سازش کی ان کے بیان ریکارڈ نہیں ہوئے ۔چیف جسٹس نے کہا قانونی سوال یہ ہے اس مرحلے پر جے آئی ٹی بن سکتی ہے ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اگر ریاست نے ذمہ داریاں پوری نہ کی ہو تو دوبارہ تفتیش ہوسکتی ہے ۔ایڈوکیٹ جنرل احمد اویس نے کہا ریاست کو پورا یقین ہے تفتیش غیر جانبدارانہ نہیں ہوئی۔مخالف فریقین کے وکلا نے اعتراض کیا تو چیف جسٹس نے وکیل زاہد بخاری کو کہا آپ کو کس چیز کی گھبراہٹ ہے ، اگر جے آئی ٹی پر اعتراض ہوا تو آپ کے لئے دروازے کھلے ہیں لیکن ہم اسموقع پر آپ کے اعتراضات سن کر آپ کا موقف مسترد کردیں تو آپ کے لئے تمام دروازے بند ہوجائیں گے ۔