مکرمی ! بسا اوقات بڑے لوگوں کا ظرف اتنا چھوٹا کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ یہ عہدہ ، یہ دولت ،یہ اقتدار اور یہ شان و شوکت ان کا ذاتی کمال ہے ؟ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ محض اللہ تعالی کی کرم نوازی ہے ۔ ایک بار پھر ایک گھریلو بچی تشدد کا نشانہ بنی ہے ۔دو میاں بیوی نے مل کر ملازمہ پر تشدد کیا ،تا دم تحریر تشدد کرنے والا مرد ضمانت پر ہے اور اس کی بیوی چودہ روزہ ریمانڈ پر حوالہ پولیس ہے ۔ یہ کوئی نیا یا پہلا واقعہ نہیں ہے ۔اس بے حس معاشرے میں یہ روز کی کہانی ہے اور آپ ملازم بچوں پر تشدد کی کوئی سی خبر بھی اٹھا کے دیکھ لیں ،آپ دیکھیں گے کہ تشدد کرنے والے معاشرے اور ملک کے اہم اور بڑے لوگ ہیں۔وکیل ،جج ،فنکار ،صحافی ،اینکر، ڈاکڑز،آفیسرز اور سیاست دان ،ہم نے ان سب کے گھر ملازم بچوں پر ہونے والے بے رحمانہ تشدد کی خبریں سنی اور دیکھی ہیں ۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بظاہر بڑے نظر آنے والے حقیقت میں بہت چھوٹے لوگ ہوتے ہیں ملازم بچی کو ہوٹل ساتھ لے جاتے ہیں مگر اس کو کھانا نہیں کھلاتے ،بلکہ اس کا منہ دوسری طرف کرا کے بٹھا دیتے ہیں۔اب اس سے زیادہ انسانی پستی کیا ہوگی ۔اللہ تعالی انسان کو جو نعمتیں عطا کرتا ہے ،انسان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔ شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان کو خالق نے جو نعمتیں عطا کی ہیں ان کو مخلوق پر تقسیم کرے۔ہم ایک خود غرض معاشرہ ہیں اور جب تک ہم خود غرضی کی بجائے ہمدردی کو طرز زندگی نہیں بنائیں گے ،معاشرے میں دکھ درد کم نہیں ہوں گے۔ کیا کریں ،ہمارے نصیب میں ایسے لوگ ہیں جن کا تن تو اجلا اجلا اور خوشبودار ہے ،مگر من آخری حد تک میلا اور بدبودارہے۔(فیصل رشید لہڑی،گجرات )