واشنگٹن (نیوزایجنسیاں )بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے امریکہ سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کر دیا۔امریکی ویب سائٹ بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کا کہنا تھا امریکہ مزید کرسکتا ہے ، اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے اقدامات ضرور کرنے چاہئیں، بالخصوص بھارت میں سنجیدگی پیدا کرے ۔امریکہ ایک مضبوط بیان جاری کرسکتا تھا یا جاری کرنا چاہیے تھا۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے جذبات کو دبانے کا سلسلہ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ امریکہ کو ایک سخت رد عمل دینے کا جواز پیدا کرتا ہے ۔ اسد مجید نے کہا ٹرمپ انتظامیہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حالیہ اقدامات واپس لینے پر مجبور کرے ۔ پاکستانی سفیر نے کہا امریکہ نے واضح کیا ہے کہ کشمیر سے متعلق اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کرنے کا اعتراف ہے ۔اسد مجید نے کہا کسی بھی بھارتی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دینے کیلئے تیار ہیں تاہم پاکستان کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا جو خطے میں امن کیلئے خطرہ بنے ۔انہوں نے کہا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ بھارت پر مذاکرات کیلئے دباؤ ڈالے ۔انہوں نے کہا میں وادی میں مزید کشیدگی دیکھ رہا ہوں، ہم معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتے ، تاہم اگر ہماری سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم اس کا منہ توڑ جواب دیں گے ۔بھارتی فوجیوں کے اقدامات سے پوری وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوگئی ہے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ جیسے ہی وادی سے کرفیو اٹھایا جائے گا تو عالمی برادری ایک نسل کشی دیکھے گی۔ افغان مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جبکہ وزیراعظم اور حکومت پاکستان قیام امن کیلئے پر عزم ہیں۔افغان امن عمل کو آگے لے جانے کیلئے ہم جو کچھ کر سکتے تھے ہم نے کیا۔