اسلام آباد(خبر نگار خصوصی،سپیشل رپورٹر، 92نیوز رپورٹ، نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام( ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان آپکوکوئی این آراونہیں ملے گا، حکومتی ٹیم کو بے معنی بات چیت کیلئے ہمارے پا س آنے کی کوئی ضرورت نہیں،مذاکرات کیلئے آناہے تو وزیر اعظم کا استعفیٰ ساتھ لیکرآوَ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے بیان کاخیرمقدم کرتاہوں،ترجمان پاک فوج نے تسلی کرائی کہ فوج غیرجانبدارادارہ ہے جبکہ اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کے کنوینراکرم خان درانی نے کہا ہے کہ حکومت پر دبائو بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے ،2دن بعدآزادی مارچ نیارخ اختیارکریگا، تین تجاویز پر غور کررہے ہیں، سارے پتے نہیں دکھائیں گے ، جو فیصلہ بھی ہوگا رہبر کمیٹی ہی کریگی جبکہ سربراہ حکومتی مذاکراتی ٹیم وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن 12 نومبر تک احتجاج جاری رکھیں گے ،مذکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہیں ، مولانا کو وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں ملے گا۔گزشتہ روز اسلام آباد میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمٰن نے مزیدکہا کہ2018الیکشن میں دن دیہاڑے دھاندلی ہوئی،کہتے ہیں کمیشن بنایاجائے کہ دھاندلی ہوئی کہ نہیں، جس چوری کی پوری قوم گواہ ہواسکی تحقیق نہیں استعفیٰ ہوتاہے ۔حکمران اب بند گلی میں ہیں، حکومت چھوڑ دو اسکے سوا کوئی راستہ نہیں۔حکومت آزادی مارچ کو سنجیدگی سے لے ۔آزادی مارچ تو ایک انچ بھی آگے جانے کی بات نہیں کررہا، دھرنے کے شرکانے آئین وقانون کی پاسداری کی۔ حکومت نے پورے ملک سے پولیس اہلکاراور کنٹینرمنگوائے ،کروڑوں کانقصان پہنچایا ، کل اگرامن خراب ہوا توذمہ دارکون ہوگا؟۔کیاقادیا نی سربراہ نے نہیں کہاکہ حکومت مخصوص آئینی شق ختم کریگی؟ریجیکٹڈوزیراعظم کی ہمشیرہ نے دبئی میں اربوں کی جائیدادیں کیسی بنائیں؟فارن فنڈنگ کیس 5سال سے الیکشن کمیشن میں لٹک رہا، یہ فنڈکہاں گیا؟۔مذہبی نوجوان پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں،اس طرح کے وفادارنہیں ملیں گے ،ہم قومی اداروں کو سیاست میں نہیں گھسیٹناچاہتے ،برادرانہ لہجے میں کہتاہوں یہ لوگ ملک کی خدمت نہیں کرسکتے ۔جب بھارتی پائلٹ کوپکڑاتوپاک فوج کوخراج تحسین پیش کیا،گلے شکوے اپنوں سے ہی ہوتے ہیں۔ فضل الرحمٰن نے خود نعرے لگوائے تو پوراپنڈال پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ علاوہ ازیں فضل الرحمٰن نے گفتگو میں کہا کہ جو ملک چلانے کے طریقے جانتے ہیں، ان کو جیل میں ڈال دیا گیا اور نااہل لوگوں کوقوم پرمسلط کردیاگیا۔ نااہلوں کوحکومت عطاکی گئی توملک کیسے چلے گا؟۔سیاسی قیادت کی گرفتاری ناجائزعمل ہے ۔ آصف زرداری کی صحت کیلئے دعا گو ہوں۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں فضل الرحمٰن نے کہا کہ عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے ، ہم ڈیڈ لائن کھینچ چکے ، ناجائز اور نااہل حکومت کو قبول نہیں کرتے ۔ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ملک میں افراتفری ہوگی، ہم کسی پر حملہ نہیں کرینگے ، گولیاں کھائیں گے ، شہادتیں لیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائینگے ۔ ہمارے پاس ایک انچ بھی پیچھے جانے کا راستہ نہیں،بندگلی میں دیوارسے لگادیا گیا ، تمام کشتیاں جلانے کو تیار ہیں۔کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے ، حکومت ٹائم پاس کررہی ہے ۔دوبارہ انتخابات کا مطالبہ انہیں ہر صورت ماننا پڑیگا۔علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم درانی نے مزید کہا کہ رہبر کمیٹی نے حکومت مخالف آزادی مارچ کوجاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ،مناسب وقت پرفیصلوں سے آگاہ کرینگے ۔ تمام اپوزیشن پارٹیاں مارچ کوجاری رکھنے پر سب متفق ہیں۔حکومت نے ابھی تک کوئی قابل قبول تجوزیزنہیں دی،ابھی تک ہم اپنے مطالبات اورموقف پرڈٹے ہوئے ہیں، سرپرائزدینگے ۔پیپلزپارٹی کے رکن رہبرکمیٹی فرحت اللہ بابرنے کہا کہ دھرنے میں مزیدقافلے بھی آرہے ہیں۔ اے این پی رہنمامیاں افتخارحسین نے کہا کہ دھرنے کے شرکاکے حوصلے بلندہیں۔قبل ازیں رہبر کمیٹی کا اجلاس اکرم درانی کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، ایاز صادق، امیر مقام، اویس نورانی، شفیق پسروری، ہاشم بابر، سینیٹر طاہر بزنجو اور سینیٹر عثمان کاکڑ شریک ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی نے ملک گیر احتجاج کے پلان بی کی منظوری دیدی جس کے مطابق ملک بھر کی اہم شاہراہوں پر بھی دھرنے دیئے جائینگے ۔ قومی اسمبلی میں صدر مملکت عارف علوی کیخلاف مواخذے کی تحریک لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پلان بی پرعملدرآمد 12 ربیع اول کے بعد شروع ہونے کا امکان ہے ۔علاوہ ازیں جے یو آئی (ف) کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس فضل الرحمٰن کی زیر صدارت انکی رہائشگاہ پرہواجس میں پارٹی ایم این ایز نے شرکت کی اور قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی حکمت عملی طے کی۔ دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے مزید کہا کہ ہماری ٹیم شہباز شریف سمیت تمام اپوزیشن سربراہوں سے رابطے میں ہے ، ملاقاتوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو اپوزیشن ثبوت دے ورنہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں، اس سے توجمہوریت نہیں رہیگی۔ اپوزیشن کو ان ہاؤس تبدیلی سے کسی نے نہیں روکا ، ان ہاؤس تبدیلی، تحریک عدم اعتماد جب چاہے لائیں۔پرویز الٰہی صرف بات کررہے ہیں، فیصلہ حکومتی کمیٹی نے کرنا ہے ۔ادھرحکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے آزادی مارچ اور دھرنا ختم کرانے کیلئے فضل الرحمٰن سے چوتھی ملاقات کی، رات کو پانچویں ملاقات بھی ہونا تھی جو آج تک موخر کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق فضل الرحمٰن نے کہاکہ میں آپ کیساتھ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا ،آپ جو بھی تجاویز لائیں گے اکر م درانی رہبر کمیٹی کے ممبرز کی مشاورت سے ہم اس پر عمل کرینگے ۔ ملاقات میں صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر اور طلحہ محمود بھی شریک تھے ۔پرویز الٰہی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سب پرامیدہیں،چیزیں بہتری کی طرف جارہی ہیں ، بہت ساری تجاویزدی ہیں،مولاناجس پر راضی ہونگے وہی بات ہوگی۔پرامیدہیں کہ جلد اچھا نتیجہ نکلے گا اورخوشخبری سنائیں گے ۔ جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اﷲ نے کہا کہ چودھری برادران قوم کو بحران سے نکالتے ہیں تو یہ انکا بہت بڑا احسان ہو گا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے پر ویزالٰہی کے ذریعے اپوزیشن کوانتخابات 2018کی تحقیقات کیلئے باضابطہ پیشکش کردی ہے ۔وزیراعظم عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے پر تیارہوگئے ہیں۔ حکومت نے فیصلہ کیاکہ جوڈیشل کمیشن یاپارلیمانی کمیٹی کے ذریعے الیکشن کی تحقیقات کراسکتے ہیں۔وزیراعظم نے سپیکر قومی اسمبلی اسدقیصرکواپوزیشن کیساتھ ملکرٹی اوآرزتیارکرنے کی ہدایت کردی ہے ۔