نارووال کے نواحی علاقے ظفر وال کے قریب ٹوٹی سڑک میں گڑھے کے باعث ڈمپر رکشہ پر الٹ جانے سے رکشہ ڈرائیور اور 7 طلبہ جاں بحق ہو گئے جبکہ لسبیلہ میں دو ٹرکوں کے تصادم نے 16 افرادکی جان لے لی ہے۔ ڈرائیور حضرات کی غفلت اور انتظامیہ کی بے حسی کے باعث بے گناہ شہریوں کی ٹریفک حادثات میںہلاکتیں تشوشناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ گزشتہ ایک روز میں ہی مختلف مقامات پر 6حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 3310 افراد ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے زیادہ ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی فہرست میں 67واں نمبر ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر حکومت بروقت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہیں کرتی تو 2030ء تک ملک میں ٹریفک حادثات میں ہلاکتیں ناگہانی ہلاکتوں کی فہرست میں 5 ویں نمبر پر ہوں گی۔ عالمی ماہرین پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بنیادی وجہ ڈرائیور حضرات کی غفلت، ناتجربہ کاری اور گاڑیوں اور شاہراہوں کی خستہ حالی کو قرار دیتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 70فی صد حادثات کی وجہ ڈرائیور کی نا تجربہ کاری اور تیز رفتاری ہوتی ہے۔ گزشتہ روز کے واقعہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ظفر وال روڈ میں پڑے گڑھے کی وجہ سے ڈمپر سکول کے معصوم بچوں کے رکشہ پر الٹ گیا۔ بہتر ہو گا حکومت ڈرائیور حضرات کی بہتر تربیت کے ساتھ شاہرات کی تعمیر کا منظم نظام بھی مرتب کرے تاکہ بے گناہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔