لاہور(قاضی ندیم اقبال)معاشی مشکلات سے نکلنے کے لئے ملکی تاریخ میں صوبائی حکومت کا مثبت اورانوکھا فیصلہ،ترقیاتی بجٹ بنانے کے لئے پہلی بارعالمی مالیاتی اداروں سے نئے قرضے حاصل کرنے کی بجائے پہلے سے دستیاب اورغیر استعمال شدہ 2.5ارب ڈالر ز کے بیرونی قرضوں کو نئے ترجیحی پراجیکٹس/ مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی پالیسی وضع کر دی۔معتبر اور مصدقہ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی کے مشیر برائے معاشی امور و منصوبہ بندی ڈاکٹر سلمان شاہ ،چیئر مین پی اینڈ ڈی حامد یعقوب اور دیگر کور ٹیم کی تجاویز پر وزیر اعلی پنجاب نے متعدد اہم معاشی اقدامات کی منظوری دے دی ہے ۔جس میں سب سے اہم ترین صوبہ کو مالی مشکلات سے نکالنے اور مستقبل میں مزید بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے جانے سے بچانے کے لئے کیا گیا فیصلہ ہے ۔ مذکورہ فیصلے کی روشنی میں صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال2020-21 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بنک اور ورلڈ بنک سے مزید کوئی قرض حاصل نہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے ۔ تاہم ان دونوں عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے حکومت پنجاب کو ماضی میں مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کے لئے دئیے گئے اڑھائی ارب ڈالر کے فنڈز، جو رواں مالی سال 2019-20کے دوران تاحال استعمال نہیں کئے جا سکے ۔ ان بیرونی فنڈز کو آئندہ مالی سال 2020-21 کے دوران صوبائی حکومت کے ترجیحی مقاصد/فیلڈز/ترقیاتی پراجیکٹس میں استعمال میں لایا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے اس غرض سے 6رکنی اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر ان کے پرنسپل سیکرٹری افتخار علی سہو نے کمیٹی کے قیام کا ڈائریکٹو جاری کر دیا ہے ۔کمیٹی کی سربراہی صوبائی وزیر خزانہ کو سونپی گئی ہے ۔ کمیٹی میں ڈاکٹر سلمان شاہ مشیر برائے معاشی امور و منصوبہ بندی ،چیئر مین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹری خزانہ اور سلمان صدیق(سابق چیف سیکرٹری/سیکرٹری خزانہ پنجاب) کو بطور ممبر شامل کیا گیا ہے ۔کمیٹی یکم جون 2020تک اپنی سفارشات وزیر اعلی پنجاب کو پیش کرے گی۔