لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا ہے صادق سنجرانی پی ٹی آئی کا امیدوارنہیں تھا ،ہم نے اسے سپورٹ کیا آج بھی حکومت انہیں سپورٹ کریگی۔پروگرام جواب چاہئے میں میزبان ڈاکٹردانش سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا رضا ر بانی نے جو سینٹ میں ماحول سیٹ کیا تھا اس کو سنجرانی مزید بہتری کی طرف لیکرگئے ۔حکومت کہہ رہی ہے اگر صادق سنجرانی نے کرسی کا ناجائزفائدہ اٹھایا تو اس کو ہٹایاجائے لیکن اس نے تو کوئی ایسا نہیں کیا ۔ماضی میں دونوں جماعتوں نے خود کو بچانے کیلئے سمجھوتہ کیا۔ مریم نواز کو چاہئے تھا کہ وہ ویڈیو عدالت میں پیش کرتیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ایم کیوایم کے رہنما میاں عتیق نے کہا اگر ان حالات میں حکومت اپنی پالیسی واضح نہیں کریگی تو ایسا کہا جائے گا کہ حکومت نے سرنڈر کردیا۔ا گر چیئرمین سینٹ اپنی سیٹ بچاگئے تو حکومت کی بڑی کامیابی ہوگی اوراگر اپوزیشن انہیں ہٹانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو آنے والے وقت میں سینٹ میں بھی قومی اسمبلی والا ماحول ہوگا۔مریم بی بی کی ویڈیو کا فرانزک ہوناچاہئے ۔ ن لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا اس وقت اپوزیشن جس سٹیج پر کھڑی ہے ایسے میں اگر کوئی اپنا راستہ الگ کرنے کا سوچے گا تو وہ اپنے موت کا انتظام خود کریگا۔صادق سنجرانی جس غلط طریقے سے آئے اس کا سب کو پتہ ہے ۔اگرعمران خان دوبارہ گھنائونا کھیل کھیلناچاہتے ہیں تو میں انہیں یہ بتاناچاہتی ہوں کہ وہ دوسری ق لیگ بننے جارہے ہیں اور ایک رو ز ق لیگ کی طرح ٹوٹ جائیں گے ۔ مجھے یقین ہے پی پی اور ن لیگ کے ارکان کسی اورطرف نہیں جائیں گے ۔ مریم نواز نے ادارے نہیں، ایک شخص کے بارے میں بات کی۔ ہمیں فوج کو سیاست میں نہیں لانا چاہئے ۔تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا اگرماضی میں چھانگا مانگا کی سیاست کو برا کہنے والے عمران خان بھی ایسا کرنے جارہے ہیں تو ان کے نعروں کا کیا بنے گا۔ ن لیگ نے بھی زردار ی کی کال پر اسلئے لبیک کہا ہے کیونکہ انکا خیال ہے ا نہیں ٹارگٹ کیا جارہاہے ۔ جب ایک پارٹی کا احتساب ہواور دوسری کو رعایت ملے تو اس احتساب پرکون اعتبار کرے گا۔ چیئرمین نیب کا بیان سب کے سامنے ہے ۔ن لیگ اس وقت مریم نواز کے سپرد ہے اور ان کے والد جیل میں ہیں اسلئے وہ تلخ بولتی ہیں۔ اعلی عدلیہ کو ویڈیو کے حوالے سے فوری نوٹس لینا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔