وفاقی بجٹ میں سرائیکی وسیب کو ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا ، کوئی میگا پراجیکٹ نہ ملا ،نہ ہی سرائیکی وسیب کی محرومی کے خاتمے کیلئے سپیشل گرانٹ کا اعلان ہوا، حالانکہ وفاقی بجٹ 2019-20ء میں قبائلی اضلاع کیلئے 152،کراچی کیلئے 45.50اور بلوچستان کیلئے 10.40ارب کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں سابق صدر آصف علی زرداری نے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے ایک بہت بڑا پیکیج انائونس کیا تھا جس کے باعث بلوچستان کو فنڈز کے ساتھ ساتھ وفاقی ملازمتوں کا حصہ بھی ملا، اسی طرح کا پیکیج سرائیکی وسیب کیلئے بھی ہونا چاہئے کہ سرائیکی وسیب کے ساتھ بلوچستان سے بڑھ کر حق تلفیاں ہوئیں، بلوچستان کے عوام کو سی ایس ایس ، صوبائی پبلک سروس کمیشن ، صوبائی ریونیو بورڈ، الگ مکمل ہائیکورٹ ، این ایف سی ایوارڈاور ارسا میں نمائندگی سمیت تمام صوبائی اختیارات حاصل ہیں جبکہ سرائیکی وسیب ایسی سہولت سے محروم ہے۔ تحریک انصاف کے منشور میں 100دن میں صوبہ کا قیام شامل ہے، 100تو کیا اب 400دن پورے ہونے کو ہیں مگر صوبہ کے قیام کیلئے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا حالانکہ بجٹ میں صوبے کے انفراسٹرکچر کی تیاری کیلئے ضروری تھا کہ بجٹ مختص کیا جاتا اور قوم کو صوبے کی پیشرفت بارے آگاہ کیا جاتامگر ایسا نہیں ہوا، وزیر خزانہ نے وسیب کے چند ایک منصوبے جیسا کہ سکھر ملتان موٹروے ، فیصل آباد ملتان موٹر وے ،لیہ، تونسہ پل، پاکستان ریلوے کی طرف سے ملتان ، خانیوال ، لودھراں ،خان پور سگنل گیئر کی تبدیلی اور ریلوے کی اپ گریڈیشن کیلئے منصوبوں کا ذکر کیاہے حالانکہ یہ پہلے سے جاری منصوبے ہیںان میں سے ایک بھی نیا منصوبہ نہیں دیا گیا، البتہ میانوالی مظفر گڑھ روڈ کو دو رویہ بنانے کا صرف اعلان ہوا ہے بجٹ میں اس کیلئے کوئی پیسہ نہیں رکھا گیا۔ ن لیگ کے دور میں بھی سرائیکی وسیب نظر انداز رہا، اب بھی نظر انداز ہے ، پہلے بھی لولی پاپ ملتے تھے اب بھی الفاظ کے ہیر پھیر کا گورکھ دھندہ موجودہ حکمرانوں نے اختیار کیا ہے۔ وفاقی بجٹ کا سب سے اہم اعلان ملک میں 195نئی یونیورسٹیوں کا قیام ہے، نئی یونیورسٹیوں کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد 23، کے پی کے 37، پنجاب 63، سندھ 55، بلوچستان 8، آزاد کشمیر 7 اور گلگت بلتستان میں 2نئی یونیورسٹیاں بنیں گی ، سوال یہ ہے کہ ان میں سے سرائیکی وسیب کو کتنا حصہ ملے گا ؟ اسلام آباد کو کالجوں اور یونیورسٹیوں کا شہر قرار دیا جاتا ہے ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کیلئے ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی کو موقوف کر کے پسماندہ علاقوں کو ترقی دی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں ہمیشہ اُلٹی گنگا بہتی ہے بجٹ ہمیشہ بیورو کریسی بناتی ہے سیاستدانوں کا صرف نام ہوتا ہے اور وسیب کے سیاستدانوں کو تو ان معاملات کا علم بھی نہیں اور ان کو اپنی ذات کے علاوہ کسی دوسرے معاملے سے غرض نہیں ہوتی اس لئے وہ بولتے ہی نہیں ورنہ یہ کیا بات ہوئی کہ صرف لاہور اور اسلام آباد کو ملکی ترقی کا گھنٹہ گھر بنا کر باقی تمام پسماندہ علاقوں کو محروم کر دیا جائے، اسلام آباد میں 23 یونیورسٹیوں کے مسئلے پر نظر ثانی ہونی چاہئے جبکہ سرائیکی وسیب کیلئے کیڈٹ ، انجینئرنگ اور آئی ٹی سمیت 50 نئی یونیورسٹیاں بننی چاہئیں۔ پورے سرائیکی وسیب میں صرف 3 یونیورسٹیاں گومل یونیورسٹی دیرہ اسماعیل خان ، زکریا یونیورسٹی ملتان، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہیں جو کہ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے دیں، 40 سال تک سرائیکی وسیب کو کوئی بھی نئی یونیورسٹی نہ مل سکی ، نواز شریف نے اپنے نام سے انجینئرنگ یونیورسٹی ملتان کا اعلان کیا جو کہ اب بھی کامرس کالج کے دو کمروں میں ایک مذاق بنی ہوئی ہے، اسی طرح نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان بھی دھکے شاہی سے چل رہی ہے ، رحیم یار خان میں خواجہ فرید آئی ٹی یونیورسٹی بنائی گئی مگر اس کے لئے فنڈز مہیا نہیں کئے جا رہے ، بہاولپور اور ملتان کے گرلز کالجوں اور گورنمنٹ کالج ڈی جی خان کو یونیورسٹی کا نام دے کر پسماندہ اور غریب علاقہ کے طلباء پر ناروا بوجھ ڈال دیا گیا جو بچہ 4500روپے داخلہ فیس دیتا تھا اب اس سے 45000روپے وصول کئے جا رہے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذکورہ کالجوں کی اصل حیثیت بحال کی جائے اور انہی ناموں سے الگ نئی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں ۔ سرائیکی وسیب میں وسائل کی کوئی کمی نہیں مگر غربت کا یہ حال ہے کہ 50 لاکھ کے لگ بھگ سرائیکی وسیب کے مرد و خواتین کراچی میں تغاریاں اٹھانے ، ٹیکسٹائل ملوں میں کام کرنے اور گھروں میں برتن مانجنے اور فرش پر پوچے مارنے پر مجبور ہیں۔ وسیب میں گندم کے گودام بھرے پڑے ہیں مگر لوگوں کا پیٹ خالی ہے ، وسیب میں خام مال اور افرادی قوت وافر مقدار میں موجود ہے مگر آج تک پورے سرائیکی وسیب میں ایک بھی ٹیکس فری انڈسٹریل زون قائم نہیں ہو سکا، موجودہ حکومت جس نے الیکشن سے قبل نیلی اجرکیں پہن کر جھوم جھوم کر تقریریں کیں اور غربت کے خاتمے اور صوبہ بنانے کے وعدے بھی کئے آج وہ سرائیکی وسیب کو اسی طرح بھول چکے ہیں جس طرح پلاننگ کے وزیر مخدوم خسرو بختیار بجٹ کے موقع پر فائل بھول آئے ، وزیر اعظم عمران خان نے ان کو جھاڑ پلا دی ، سوال یہ ہے کہ عمران خان سمیت تحریک انصاف کی پوری قیادت نے سرائیکی قوم اور سرائیکی وسیب کو جس طرح بھلا رکھا ہے اس کی جھاڑ کون پلائے گا؟ جو بھی حکومت آتی ہے وہ اپنے بجٹ کو غریب دوست بجٹ قرار دیتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بجٹ کا جوں ہی اعلان ہوا خمیری روٹی کی قیمت 7روپے سے بڑھ کر 10 روپے ہو گئی ، ڈالر اور سونے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا،بجٹ میں سپریم کورٹ کیلئے 2 ارب 9 کروڑ 50 لاکھ ، اسلام آباد ہائیکورٹ کیلئے 57کروڑ 90 لاکھ اور وفاقی وزارت قانون و انصاف کیلئے 57 کروڑ روپے مختص کئے گئے۔ مگر تحریک انصاف کے دور میں بھی غریبوں کیلئے انصاف عنقا ہے آج جہاں بجٹ کی خبریں شائع ہوئی ہیں تو احمد پور شرقیہ سے یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ لوگوں نے ڈنڈے مار کر چوری کے ملزم کو ہلاک کر دیا ، اس سے پہلے جلال پور پیر والہ میں دو مختلف واقعات میں دو درجن سے زائد افراد قتل ہوئے ، جس ریاست میں انصاف نہیں ہوتا وہاں لوگ خود فیصلے کرتے ہیں ، ایک اندوہناک خبر میرے شہر خان پور کی ہے کہ نواحی علاقہ ٹھل لعلو والا میں ایک غریب بٹھہ مزدور نے غربت، تنگدستی کے باعث بیوی کے لڑائی جھگڑے سے تنگ آ کر اپنے ہی دو بیٹوں 7 سالہ سلمان اور 8 سالہ سلطان کو ذبح کر کے لاشیں بوری میں بند کر دیں، وسیب میں یہ غربت اور تنگدستی کے معمولی سے مظاہر ہیں ، کیا حکومت اس طرف توجہ دے گی؟۔