پاکستان کی سیاست میں اگر کوئی استعمال ہوتا ہے تو وہ ہیں سیاسی جماعتوں کے مخلص مگر غریب کارکن ۔ یہ غریب کارکن اپنے قائد کے ایک حکم پر اپنا جان ومال سب کچھ نچھاور کرنے پر تیار ہوتے ہیں ۔ جماعت کوئی بھی ہووہ اپنے کارکنوں کو جذباتی نعروں کے ساتھ موبلائز کرتی ہے یہ کارکن اپنے قائدین کے غیرمنطقی و غیرحقیقی اوربلندوبانگ جذباتی نعروں کے چکر میں آکر جلسے جلوس ،ریلیوں ،مارچ اور دھرنوں میں آجاتے ہیں ۔ ترقی پذیر ملکوں میں مذہب کے نام پر عوام کو مشتعل کرنا آسان ہوتاہے ،سادہ لوح لوگوں کو مذہب کے اورپرکشش نعروں سے ورغلایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ صوبائیت ولسانی کارڈز قوم پرست جماعتیں بہت چالاکی سے اپنے مفادات کی خاطر کھیلتی ہیں ۔ سوشلزم کا چورن بھی پاکستان میں کچھ لوگوں نے خوب بیچا اور عوام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ۔ رہی سہی کسر ملک میں تبدیلی و انقلاب کے نام نہاد دعویداروں نے پوری کردی ہے مگر ان جذباتی نعروں میں اگر کسی کا استحصال ہواہے تووہ مخلص کارکنوں اور ان کے خاندانوں کا ہے ۔ پاکستان میں آج تک جتنی بھی تحریکیں چلیں ہیں ان میں غریب کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں ۔ دولتانہ نے ناظم الدین حکومت کا تیاپانچہ کرنے کے لئے ختم نبوت کا کارڈ استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا ۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف انہیں معصوم لوگوں کو استعمال کیا اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ بھٹو صاحب سوشلزم کا نعرہ لگا رہے تھے ان کی دو رنگی کی اس سے بہتر مثال کیاہوگی ان کی ٹرین کے ایک ڈبہ میں سوشلسٹ لیڈر وں کے انقلابی نعرے و منشور تھا جبکہ دوسرے ڈبے میں سب جاگیردار ،وڈیرے اور سرمایہ دار تھے جن کیخلاف انقلاب لانا تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے2013 ء میں انتخابی اصلاحات کے لئے دھرنا دیا تو جنوری کی یخ بستہ راتوں میں یہ کارکن اس لیئے سیسہ پلائی کی دیوار بنے رہے کہ ان کو انقلاب و نظام کی تبدیلی کا خوش نما خواب دیکھایا گیا تھا ۔ مگر ان کارکنوں کو مایوسی اس وقت ہوئی جب ڈاکٹر طاہر القادری نے اس وقت کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کرلیا جس پر بعد میںکوئی عملدرآمد بھی نہ ہوسکا ۔ تو کسی کارکن نے اپنے قائد سے یہ نہیں پوچھا کہ جناب وہ جو ’’سیاست نہیں ریاست بچائو کا نعرہ ‘‘ اس کا کیا بنا ۔ اس کے بعد نوازشریف کے دور حکومت میں عمران خان و ڈاکٹر طاہرالقادری نے تحریک چلائی تو سلام ہے ان ورکروں کی قربانیوں کو جنہوں نے ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جان تک قربان کردی مگر میدان میں کھڑے رہے ۔سانحہ ماڈل ٹائون کے شہدا کے لواحقین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا یہ ایک الگ بحث ہے کہ پاکستان کا نظام انصاف جس میں اصلاحات کی ضرورت ہے کسی غریب کو انصاف کیوں نہیں دیتا اشرافیہ کے لئے تو چھٹی والے دن بھی عدالت لگ جاتی ہے اور ضمانتیں تھی مل جاتی ہیں ۔ اقتدار کے اس کھیل میں لیڈران کو کارکنوں کی یاد اسی وقت ستاتی ہے جب ان کو جلسے ریلیوں میں ان کی ضرورت ہوتی یا الیکشن مہم چلانی ہو ۔ جیسے ہی یہ جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں تو ان مخلص کارکنوں کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ان کی جگہ پر طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اہم عہدوں ،وزارتوں پر براجمان ہوجاتے ہیں ۔ یہ خوشامدی اورابن الوقت ٹولہ نظریاتی کارکنوں کا اپنے لیڈر سے رابطہ ہی ختم کردیتا ہے ۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے کہ سیاسی جماعت صرف نام کی جماعت رہ جاتی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی یہی غلطی کی تھی ،میاں نوازشریف نے بھی جماعت کو اپنے خاندان کی وراثت بناکر وہی غلطی دہرائی ۔اقتدار میں آنے کے بعد نوازشریف نے پارٹی میں آمرانہ طرز عمل اختیار کیا عام کارکن تو دور کی بات ہے پارٹی کے سرکردہ رہنما بھی نوازشریف سے ملنے کے لئے ترستے تھے ۔پارٹی اجلاس میں جوبات نوازشریف صاحب نے کردی وہ حرف آخرہوتی ۔ پارٹی کو شریف فیملی لمیٹڈ بنانے کا نقصان آج یہ ہوا کہ اقتدار سے ہٹنے کے بعد پارٹی کا کہیں بھی مضبوط نیٹ ورک نہیں ۔ مسلم لیگ نے ووٹ بنک تو بنایا مگر سٹریٹ پاور نہ بنا سکی کی پیشی پر مخلص و وفادار کارکن ہی نظرآتے ہیں، ابن الوقت خوشامدی ٹولہ کہیںنظر نہیں آتا ۔ یہ وہی مخلص کارکن ہیں جو بیگم کلثوم نواز مرحومہ کے شانہ بشانہ قربانیاں دے رہے تھے مگر جب نوازشریف کو اقتدار ملاتو ان کو کھڈے لائن کردیا گیا۔ جو غلطیاں نوازشریف نے کیں آج وہی غلطیاں عمران خان کررہے ہیں ۔ الیکشن سے پہلے جو وعدے کارکنوں سے عمران خان نے کئے تھے آج اقتدار کی راہداریوں میں وہ کھو گئے ہیں ۔ وہ نظریاتی کارکن جنہوں نے قربانیاں دیںآج نظر نہیں آرہے بلکہ پردہ سکرین پر وہی اشرافیہ کے ترجمان ،سرمایہ دار،جاگیردار اور وڈیرے نظر آتے ہیں جو پارٹی بدل کر ہر اقتدار کا حصہ بنتے ہیں ۔ سیاسی کارکنوں کے ساتھ یہی سلوک الیکشن کے موقع پر ہوتا ہے ۔لیڈروں کی لگژری گاڑیوں کے آگے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے والے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو تک کیوں نہیں پہنچ پاتے ۔اپنے قائدین کی تصویروں والے مختلف جماعتوں کے اشتہار بانٹنے والے کارکن ساری زندگی اشتہار ہی بانٹتے رہتے ہیں ان کی تصویر کیوں کبھی اشتہار پر نہیں آتی ،ان کو ٹکٹ کیوں نہیں ملتا ۔ الیکشن کے قریب آکر الیکٹیبلز کو ہی کیوں ٹکٹ دیا جاتا ہے ؟ عمران خان نے اسی کلچر کو ختم کرنے کی بات کی تھی مگر اپنی مجبوریوں کا بتا کر وہی کچھ کیا جو اس کے پیش روکررہے تھے ۔تو عمران اور نواز شریف میںکیا فرق ہے ؟ بانی ایم کیوایم کے نفرت انگیز و متشدد بیانیہ کی بھینٹ چڑھنے والے بھی غریب کارکن و کراچی کی عوام ۔ ہمارے لیڈروں کو سمجھناہوگا کہ سیاسی جنگ میں نظریات ،سیاسی کارکن اور پارٹی تنظیم ہی اسلحہ کا درجہ رکھتی ہے ۔ اصل میں اس ملک میں کھیل کے بڑے کھلاڑی پس پردہ رہ کر ایسا کھیل کھیلتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور مولانا جیسے لوگ اپنے کارکنوں کو rent a crowd کی طرح بیچتے رہتے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں کب تک ورکرز کا استحصال کرتی رہیں گی ؟ اب مولانا سے کوئی پوچھے کہ ان ورکروں کے خلوص کا کیا بنے گا ان کی قربانیوں کا صلہ کون دے گا ؟ ان سے جووعدے کئے تھے وہ کون پورے کرے گا ۔ ان کے جذبات سے کھیلنے کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ افسوس صد افسوس ! کہ جمہوریت کانام لینے والی کسی پارٹی میں بھی جمہوریت نہیں ہے ۔ کسی کارکن کو یہ اختیار ہی نہیں دیا جاتاکہ وہ اپنے لیڈر سے سوال کرسکے یا اختلاف کی ہمت کرسکے ۔ اب کارکنوں کو بھی سیاسی پختگی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ان نام نہاد لیڈروں سے سوال کرنا ہوگااور اپنا حق لینا ہوگا ۔ سیاسی ورکروں ! تم ہی کچھ کرسکتے ہو تو کرلو ورنہ باقی تو سب فریب کا کاروبار ہے بقول شاعر سب آنکھ کا دھوکہ ہے روانی تو نہیں ہے دریا میں فقط ریت ہے پانی تو نہیں ہے