9نومبر مصور پاکستان علامہ اقبال کی پیدائش کادن ہے۔142ویںجنم دن پر ملک بھر میں 9روزہ تقریبات کا اعلان کیا گیا ہے ضروری ہے کہ وسیب کے حوالے سے یادوں کو تازہ کیا جائے اس سلسلے میں علامہ اقبال اور نواب آف بہاولپور سر صادق محمد کی علمی خدمات کا تذکرہ روزنامہ 92 نیوز کے قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہوگا۔ اس سلسلے میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ریاست بہاولپور کے آخری فرمانروا صادق محمد خان عباسی 3ستمبر1906ء میں پیدا ہوئے ‘ اور اٹھارہ سال کی عمر (1924)میں ان کی تاج پوشی ہوئی ‘ علامہ اقبالؒ کے نواب صادق خان کے والد نواب بہاول خان سے بھی راہ ورسم تھے مگر صادق خان سے ان کی دوستی زیادہ گہری اور مضبوط تھی یہ بھی حقیقت ہے کہ علامہ اقبال بہاول پور اور نواب آف بہاول پور سے محبت کرتے تھے اور مملکت خدادا دبہاول پور کی اسلامی خدمات اور نواب آف بہاول پور صادق محمد خان عباسی کی علم دوستی اور ریاست کیلئے ترقی پسندانہ پالیسیوں کو علامہ اقبال قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ علامہ اقبال نواب آف بہاول پور کی دعوت پر ایک مرتبہ بہاول پور آئے ‘ انہوں نے بہاول پور میں ہر طرف اسلامی طرز تعمیر کے مظاہر دیکھے تو نواب آف بہاول پور کو مخاطب ہو کر کہا : زندہ ہیں تیرے دم سے عرب کی روائتیں اے تاجدار سطوتِ اسلام زندہ باد قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری اور بہت سے دوسرے زعماء نواب آف بہاول پور کی طرف سے وظیفہ پاتے تھے ‘ اسی طرح علامہ اقبال کو بھی ریاست بہاول پور کی طرف سے خدمت سے نوازا جاتا تھا مورخہ 5مئی 1929ء ‘نواب صادق محمد خان عباسی کے پرائیویٹ سیکرٹری میجر شمس الدین کے نام علامہ اقبال نے ایک خط میں خود لکھا کہ شکریہ ! مجھے ریاست کی طرف سے بھیجا گیا وظیفہ برابر مل رہا ہے۔ علامہ اقبال ایک مرتبہ ریاست بہاول پور کے سفارتکار کی حیثیت سے وائسرائے ہند کے پاس بھی گئے اوروائسرائے ہند کو سر سکندر خان کی ریشہ دوانیوں سے متعلق نواب آف بہاول پور کی تشویش سے آگاہ کیا۔ علامہ اقبال اور نواب آف بہاول پور کی تعلیمی حوالے سے سوچ مشترک تھی ‘ دونوں مسلمان طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کے آرزو مند تھے ‘ ریاست بہاول پور کی طرف سے جہاں علی گڑھ سمیت دوسرے مسلم اداروں کی مالی مد کی جاتی وہاں علامہ اقبالؒ نواب آف بہاول پور سے لاہور کے علمی ادارے ’’انجمن حمایت اسلام‘‘کیلئے فنڈز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ لاہور کے دیگر اداروں کی اعانت کی طرف بھی ان کی توجہ مبذول کراتے رہتے تھے۔ چنانچہ ریاست بہاول پور کے فرمانروا سر صادق محمد خان عباسی اس وقت جبکہ ریاست میں چار آنے سیر چھوٹا گوشت ملتا تھا ‘ لاہور کے تعلیمی اداروں کو کتنی مقدار میں سالانہ مالی امداد دیتے تھے ؟ اس کا جواب اس تفصیل سے سامنے آتا ہے کہ کنگ ایڈورڈ ایجوکیشن فنڈ ایک لاکھ پچاس ہزار ‘ اسلامیہ کالج لاہور تیس ہزار ‘ انجمن حمایت اسلام و انجمن حمایت اسلامیہ ایک لاکھ سات ہزار ‘ ایچی سن کالج و پنجاب یونیورسٹی چودہ ہزار ‘ انجمن ہلال احمر و ایس ایس پی ایسوسی ایشن چودہ ہزار ‘ پنجاب مینٹل ہسپتال کو پانچ ہزار سالانہ ملتے تھے۔ سالانہ گرانٹ کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کا سینٹ بلاک ‘ کنگ ایڈورڈ کالج کا آدھا حصہ (جسے آج بھی بہاول پور حصہ کہا جاتا ہے)‘ ایچی سن کالج لاہور کی شاندار توسیع بھی نواب آف بہاول پور نے کرائی ‘ یہ سب کچھ نواب آف بہاول پور اور علامہ اقبال کی مشترکہ سوچ اور دوستی کا نتیجہ تھا مگر قیام پاکستان کے بعد لاہور کا مقتدر طبقہ اس قدر احسان فراموش ثابت ہوا کہ آج لاہور میں نہ صرف نواب آف بہاولپور کو بھولے سے یاد نہیں کیا جاتا بلکہ محکمہ تعلیم پنجاب کی کسی نصابی کتاب میں نواب آف بہاول پور کا ذکر تک نہیں۔ علامہ اقبال ؒ مسلمانوں کے نمائندہ شاعر تھے ‘ وہ فلسفے کی زبان میں بات کرتے وہ قصیدہ خواں یا درباری شاعر ہرگز نہ تھے ۔ پنجاب کے سیاسی حالات اچھے نہ تھے تو انہوں نے برملا کہا کہ ’’ہیں اہل نظر کشور پنجاب سے بیزار‘‘ اس کے مقابلے میں وہ مملکت خدادا بہاول پور کی علمی اور فلاحی خدمات سے بہت زیادہ خوش تھے اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے 92مصرعوں پر مشتمل ’’دربار بہاول پور‘‘ کے نام سے ایک قصیدہ لکھا ‘ 1903ء بہاول پور جشن تاج پوشی منایا جا رہا تھا ‘ وائسرائے ہند اور والیان ریاستہائے ہندوستان تقریب میں جلوہ افروز تھے ‘ علامہ اقبالؒ نے بھی وہاں پہنچنا تھا مگر وہ نہ آ سکے البتہ انہوں نے ’’دربار بہاول پور‘‘ کا قصیدہ جو اس موقع کیلئے لکھا تھا‘ بھجوادیا تھا ۔ یہ قصیدہ کتاب ’’باقیات اقبال‘‘ میں موجود ہے‘ ایک شعر ملاحظہ فرمائیں: بزم انجم میں ہے گو چھوٹا سا اک اختر زمیں آج رفعت میں ثریا سے بھی ہے اوپر زمیں نواب آف بہاول پور کے پرائیویٹ سیکرٹری کی معرفت علامہ اقبال کی ریاست بہاول پور سے خط و کتابت جاری رہتی ‘ علامہ اقبالؒ وقتاً فوقتاً نواب آف بہاول پور کی توجہ فلاحی کاموں کے علاوہ سیاسی امور کی طرف مبذول کراتے رہتے اور نواب آف بہاول پور بھی علامہ اقبال کے مشوروں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ۔ 13مارچ1928ء کو علامہ اقبال نے لاہور سے نواب صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری کے نام ایک مکتوب گرامی میں لکھا کہ ’’مسٹر شمس الدین نے میجر شمس الدین کی زبانی مجھ سے کہا تھا کہ سرکار عالی وقار کو ایک قانونی مشیر کی ضرورت ہے ‘ اگر میری خدمات کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں اور یہ بات میرے لئے عین سعادت ہوگی‘ علامہ اقبال نے مزید لکھا کہ باقی گذارشات بہاول پور آ کر زبانی بھی عرض کروں گا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کی وفات کے بعد 1939ء میںانجمن حمایت اسلام لاہور نے تعزیتی ‘ جلسے کا انعقاد کیا ‘ تعزیتی جلسے میں نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی نے خود شرکت کرکے ذاتی دوستی کا حق ادا کیا ‘ اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں نواب آف بہاول پور نے کہا کہ علامہ تمام مسلمانوں کے شاعر تھے ہم سب کے مداح ہیں ‘ ہم ان کیلئے صرف باتیں نہیں بلکہ ان کے مشن کو پورا کریں گے ‘ اور ریاست بہاول پور انجمن کے ساتھ دوسرے تعلیمی اداروں کی امداد اور اعانت جاری رکھے گی۔نواب آف بہاول پور 24مئی 1966ء کو فوت ہوئے یہ ان کی عظمت اور اعلیٰ ظرفی تھی کہ انہوں نے علامہ اقبال کے تخیلات کے عین مطابق پاکستان اور اہل پاکستان سے مرتے دم تک وفاداری نبھائی ۔