بھارت کی جانب سے فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے ناکافی اقدامات اور ہوائوں کا رخ مغرب کی طرف ہونے سے لاہور سموگ کی شدید لپیٹ میں ہے۔ ناسا کی جانب سے 6 نومبر کو بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کی تصاویر جاری کی گئی تھیں۔ گزشتہ برس بھی ماحولیات کے عالمی اداروں نے بھارت اور پاکستان میں فضائی آلودگی کے خطرناک حد تک بڑھ جانے کے بعد دونوں ممالک کو فوری اقدامات تجویز کئے تھے۔ عالمی ادارے کی تجاویز کی روشنی میں ہی پاکستان نے نہ صرف فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی لگائی بلکہ ملک بھر میں بھٹوں کو بھی بند کر دیا گیا۔ مگر بدقسمتی سے بھارت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ دکھائی گئی۔ یہ بھارت کی جانب سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے ناکافی اقدامات ہی تھے کہ گزشتہ کئی روز سے دارالحکومت دہلی میں لوگوں کا سانس لینا محال ہو گیا تھا اور درجنوں افراد ہسپتال پہنچ گئے۔ گزشتہ روز ہوائوں کا رخ جنوب مغرب کی طرف ہونے سے اس عفریت نے لاہور کو جکڑ لیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فضائی آلودگی عالمی مسئلہ ہے اور اس میں بھارت سمیت عالمی برادری کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ سموگ کی وجوہات جو بھی ہوں مگر حکومت کو اس جان لیوا صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ بہتر ہو گا حکومت طبی سہولیات کے ساتھ شجرکاری مہم کو مزید تیز کرے کیونکہ درختوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے سے ہی سانس لینے کے لئے صاف ہوا میسر آ سکتی ہے۔