حضرت شیخ سعدی شیرازی ؒچھوٹی عمر کے تھے کہ ایک دفعہ اپنے والد صاحب کے ہمراہ عید کی نماز کے لیے جا رہے تھے کہ لوگوں کی بہت بھیڑ تھی۔ اس لیے والد نے انہیں نصیحت کی کہ دیکھو بیٹا میری انگلی نہ چھوڑنا، ورنہ رش اور بھیڑ میں گم ہو جائو گے، لیکن راستے میں ننھے سعدی نے والد کی انگلی چھوڑ دی اور کھیل کود میں مشغول ہو گئے (جیسا کہ بچوں کی عادت ہوتی ہے) کھیل سے فارغ ہو کر جب والد کو قریب نہ دیکھا تو مارے خوف کے رونے لگے۔ اتنے میں والد بھی انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہاں آگئے۔ کان کھینچتے ہوئے جھڑک کر فرمایا کہ ناسمجھ بچے میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ میری انگلی مضبوطی سے پکڑے رکھنا، لیکن تم نے دھیان نہیں کیا اور میرا کہا نہ مانا اور پریشانی ہوئی۔ بڑی عمر میں حضرت سعدی لوگوں کو یہ آب بیتی واقعہ سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم دنیا کی بھیڑ میں گم ہونا نہیں چاہتے تو کسی نیک بندے کا دامن تھام لو، ورنہ پریشانی میں ٹھوکریں کھاتے پھرو گے، جو بزرگوں کا دامن چھوڑ دیتا ہے، وہ یونہی بھٹکتا رہتا ہے۔