آدمی کو انا کے ساتھ پیدا کیا گیا ۔ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے ۔ اپنی ذات اور اس کے اثبات کا جذبہ ۔ ابنِ آدم کو مگر عقل بھی بخشی گئی ۔ دانش بھی عطا کی گئی ۔ دانش کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ اپنے سوا دوسروں کے وجود کو بھی تسلیم کیا جائے ۔۔۔اور صمیمِ قلب سے تسلیم کیا جائے ۔ زمین ایک مقتل ہے ، انسانی خوابوں اور آرزوئوں کا مقتل۔ اقبالؔ نے شکوہ کیا تھا: کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟ ایک قدسی حدیث کا مفہوم یہ ہے : آدمی اپنی راہ چلتا ہے اور چلتا رہتاہے ؛حتیٰ کہ وہ نڈھال کر دیا جاتا ہے ۔ پھر ہوتا وہی ہے ، جو پروردگار کی منشاومقصود ہو ۔ ناصر کاظمی نے سوال کیا تھا: یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے ؟ حسین بن منصور حلّاج صوفی تو جیسے بھی تھے ، شاعر بہت بڑے تھے۔ ان کا ایک مصرع یہ ہے : ان کے لیے میں روتا ہوں جو چلے گئے اور ان کے لیے بھی جو راستوں میں سرگرداں ہیں ۔ پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا منگل کو قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو نے جس انداز میں بات کی ، وہ فقط چیلنج کرنے والا نہیں ، زخم لگانے والا تھا۔ وزیرِ اعظم کا انہوں نے مذاق اڑایا ۔ جواب میں مراد سعید نے جو کیا، وہ اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ دھمکی دی اور ایسی دھمکی کہ گویا کارکنانِ قضا و قدر اس نوجوان کے اشارہ ء ابرو پہ حرکت میں آتے ہوں ۔ عمران خاں ان پہ شاد ہیں اور ایسے شاد کہ انہیں اپنا جانشین قرار دے دیا تھا۔ اسی پہ بات ختم ہو گئی ہوتی تو بھی قلق کا باعث بنتی کہ اظہار کی سطح اس قدر پست ہو گئی ۔ اس کے بعد مگر معزز خواتین کی موجودگی میں جناب قادر پٹیل نے جو کچھ ارشاد کیا، وہ ناقابل یقین تھا۔ 1972ء سے اسمبلی میں جانے کا اتفاق ہوتا رہا ۔ ایسی پست اور پو چ گفتگو کبھی نہ سنی تھی ۔ اپنے حریف کے ضمن میں ایسے غلیظ اشارے انہوں نے کیے ۔ کہ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ لکھنو کے آوارہ چھوکروں کے باب میں اسد اللہ خاں غالبؔ نے کہا تھا: طفلانِ خود معاملہ، قد سے عصا بلند۔ قادر پٹیل اس سے بھی بڑھ گئے ۔ خطرے کی گھنٹی بجنا چاہئیے تھی ۔ خود ان کی صفوں میں سے کسی کو اٹھنا چاہئیے تھا، ٹوکنا چاہئیے تھا۔جتلانا چاہئیے تھا مگر افسوس ! کچھ گنگ ہو گئے، کچھ ادراک ہی نہ کر سکے اور کچھ لطف اٹھاتے رہے ۔ بدل دیا نہ اگر آدمی نے دنیا کو تو جان لو کہ یہاں آدمی کی خیر نہیں حبیب جالب فراقؔ کے واقعات سنایا کرتے۔ پون صدی ہونے کو آئی، جب اس نے کہا تھا: اس دور میں زندگی بشر کی /بیمار کی رات ہو گئی ہے ۔ یہ تو ا س سے بھی بدتر ہے ۔ اچھے اچھوں پر ایسی دیوانگی ہے ۔ کہ تباہی لا کر رہے گی ۔ آدمی کی فطرت میں تصادم ہے ، غلبے کی تمنا اور گاہے طنابیں توڑ دینے والی تمنا ایسا بھی کیا کہ پاگل پن سوار ہو جائے۔ پورے معاشرے کو جب ہیجان آلیتا ہے تو انجام برا ہوتاہے ، بہت ہی برا‘ہٹلر کا جرمنی۔ وزیرِ اعظم نے پچھلے دنوں سوشل میڈیاکے حواریوں کو جمع کیا ۔ کہا کہ ان کے جوسیاسی مخالفین بدزبانی کے مرتکب ہیں ، عریاں کر دیے جائیں ۔ ایک سیاستدان کا نام لے کر کہا: گٹر سے نکلا ہوا آدمی۔ وزیرِ اعظم اگر یہ لہجہ اختیار کریں گے تو نتیجہ کیا ہوگا۔ ممکن ہے ، یہ صاحب بہت برے ہوں ، قابلِ تعزیر ہیں تو سزا دی جائے مگر اس وحشت سے وحشت کے سواکیا حاصل ؟ سندھ کے ایک روحانی پیشوا نے کہ سیاستدان بھی ہیں ، کہا کہ خلقِ خدا سے گھلناملنا ان کے مزاج میں نہیں ۔ عام لوگوں میں وہ خورسند نہیں رہ سکتے ۔ عرض کیا: خطا معاف ، جن کی جوتیوں کے طفیل یہ مرتبے آپ کو حاصل ہیں ، وہ تو ابو جہل کے دروازے پر گئے تھے۔ ۔۔اور وہ بھی ریگ زار کی آندھی میں ، جب چہرہ ڈھانپ لینے اور چاردیواری میں بند رہنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔احساس کیا، ادراک ہی نہیں ، علم ہی نہیں ۔ فقط انا ہے اور انا وہ ہے کہ جنون سوار ہو تو لہو مانگتی ہے ۔ پوٹھوہار کے لافانی شاعر میاں محمد بخش کے بقول انسانی ذہن کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے ’’رت پیندا نئیں ڈردا‘‘ خون پینے میں بھی خوف کا احساس نہیں ہوتا۔ اقتدار کی جنگیں ازل سے چلی آتی ہیں اور ابد تک رہیں گی ۔ دوسروں پہ حکم چلانا آدمی کی سرشت میں ہے ۔قانونِ فطرت مگر یہ ہے کہ آدمی کو اپنی سرشت ہی سے لڑنا ہوتا ہے ۔ اپنی جبلتوں سے‘ وگرنہ پاگل پن اور اس پاگل پن کا انجام موت ۔اگر نہ بھی ہو تو رسوائی لازم ہے ۔ بے توقیری ، بے بسی اور رسوائی ! تاریخ یہی کہتی ہے ۔ خود پاکستان کے بیتے مہ و سال کا سبق یہی ہے ۔ ہر عشرے، ڈیڑھ عشرے کے بعد مارشل لا نافذ ہوتاہے ۔ سیاستدانوں کی ایک پوری کھیپ سجدہ ریز ہوتی ہے اور ایک پوری کھیپ پامال۔ کوئی پھانسی چڑھا، کوئی جلاوطن ہوا، مگر افسوس کہ کوئی ایک گروہ بھی سبق نہ سیکھ سکا۔ بدقسمت کون ہے ؟ وہی جو رک کر غور نہیں کرتے۔ اندھا دھند بھاگتے چلے جاتے ہیں ۔ کوئی ان کی منزل نہیں ہوتی ۔ اپنا مقدر وہ خود نہیں ، حالات لکھتے ہیں ۔ وہ بھی کیا آدمی ہوا کہ سوچ پچار کی کبھی فرصت ہی نہ پا سکے ۔ انا کا پرچم اٹھائے چیختا چنگھاڑتا چلا جائے۔ میں ہوں وحشت میں گم تیری دنیا میں نہیں رہتا بگولا رقص میں رہتا ہے ، صحرا میں نہیں رہتا قائدِ اعظمؒ کے بعد کوئی ایک حکمران بھی آبرومندی کے ساتھ رخصت نہ ہوسکا۔ اقتدار کا کوئی حق فوج کو نہیں ۔ اس بیدار مغز آدمی مشتاق گورمانی نے کہاتھا’’ میں لوہے کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر تا ہوں کہ وہ انسانوں پر حکومت کرے ۔‘‘ سامنے کی بات یہ ہے کہ عسکری اقتدار کوئی نعمت ہوتا تو دنیا کی اکثر اقوام اس سے فیض پاتیں ۔ اگر طاقت ہی کو قرینہ ، بنیاد اور منطق مان لیا جائے تو اخلاقی اصول کہاں رہیں گے ؟ اجتماعی دانش کیسے بروئے کار آئے گی ۔ اجتماعی دانش مشاورت میں ہوتی ہے اور مشاورت آزادی طلب کرتی ہے ۔ آزادی ہی تو ہے بکمالِ تمام جس میں انسانی صلاحیت بروئے کار آتی ہے ۔ آزادی کا مگر ایک لازمی اور بنیادی تقاضا ہوا کرتاہے ۔۔۔ڈسپلن! اگر کوئی معاشرہ اپنی حدود و قیود کا تعین نہیں کرتا۔ اجتماعی حیا ت کے قاعدے اور ضابطے مرتب نہیں کرتا تو آزادی نہیں ،اسے انارکی نصیب ہوگی۔آزادی انسانوںکی متاع ہے ، حیوانوں کی نہیں ۔ ہم سب خطا کار ہیں ، سب کے سب غلطیوں کے مرتکب مگر کوئی آخری حد؟ کوئی سرخ لکیر ؟ آدمی کو انا کے ساتھ پیدا کیا گیا اور یہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے ۔ اپنی ذات اور اس کے اثبات کا جذبہ ۔ ابنِ آدم کو مگر عقل بھی بخشی گئی ۔ دانش بھی تو عطا کی گئی ۔ دانش کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ اپنے سوا دوسروں کے وجود کو بھی تسلیم کیا جائے ۔۔۔اور صمیمِ قلب سے تسلیم کیا جائے ۔